Al-Risala · June 2008 · page 36

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶

سوال وجواب سوال الرساله، مارچ 2008 ملا۔ یوں تو میں الرسالہ کا دس سال سے زائد مدت سے مطالعہ کرتا آرہا ہوں اور ہر مضمون سے الحمد للہ نفع حاصل ہوتا ہے، لیکن اس ماہ کے الرسالہ میں مضمون ”جھوٹ کی دو قسم“ ایک چشم کشا (eye opener) مضمون ثابت ہوا۔ اس مضمون کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوا کہ گویا اب تک اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ میں نے جھوٹ کی بنیاد پر قائم کر رکھا تھا۔ اللہ آپ کو اس نصیحت اور خیر خواہى کے لیے جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس مضمون کے مطالعہ کے بعد اب میری کوشش ہے کہ میں ہر حال میں کذب خفی سے بچوں۔ اللہ سے اس کے لیے دعا بھی کرتا ہوں۔

مضمون کے آخری حصہ، جس میں کذب خفی کا انجام، کمزور شخصیت، کی شکل میں ظاہر ہونا لکھا گیا ہے، اس نے بھی خاص طور پر متاثر کیا۔ ابھی تک منافقانہ شخصیت کا جو تصور ذہن میں بنا ہوا تھا، اس کے اندر کافی تبدیلی آگئی۔ کذب خفی بھی منافقانہ شخصیت کی پرورش کرتا ہے، اس کا علم پہلی بار ہوا۔ اب تو میں سمجھتا ہوں کہ کذب خفی سے بچنا فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے، جس طرح ہر ایمان والے کے لیے منافقانہ صفات سے بچنا فرض کے درجہ میں ضروری ہے (ساجد انور، مہاراشٹر)۔ جواب حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی دو قسمیں ہیں — شرک جلی اور شرک خفی۔ اس پر قیاس کر کے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسی طرح کذب کی بھی دو قسمیں ہیں — کذب جلی، اور کذب خفی۔ جہاں تک کذب جلی کا معاملہ ہے، وہ ایک معلوم بات ہے۔ ہر آدمی بہ آسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ کون سا بیان کذب جلی کی تعریف میں آتا ہے۔ البتہ کذب خفی کو صرف سنجیدہ غور وفکر کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ کذب خفی تقریباً وہی چیز ہے جس کو ٹوسٹ (twist) کرنا کہتے ہیں، یعنی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔ یہ عمل آدمی خاص طور پر دو مقصد سے کرتا ہے۔ کسی معاملے میں جب آدمی کی اپنی ذات زد میں آرہی ہو، تو وہ بات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کی اپنی ذات پر کوئی حرف نہ آئے۔ اسی طرح

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page