Al-Risala · June 2008 · page 37

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷

جب ایک آدمی دوسرے شخص کو بدنام کرنا چاہے، تو وہ اس کی بات کو صحیح صورت میں نہ پیش کرکے، بدلی ہوئی صورت میں پیش کرتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے ــــ اخبار نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا: The newspaper was accused of twisting the facts. ٹوٹ کر کے بات کو پیش کرنے کا طریقہ موجودہ زمانے میں اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی کوئی انسان اس برائی سے بچا ہوا ہو۔

اس معاملے کو جاننے کا سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ضمیر (conscience) سے اس کو دریافت کرے۔ کوئی عورت یا مرد جب کسی بات کو ٹوٹ کر کے کہتے ہیں، تو ان کا ضمیر فوراً اس کی خلش محسوس کرنے لگتا ہے۔ ضمیر اپنی خاموش زبان میں کہتا ہے کہ تم اس معاملے میں صاف گوئی سے کام نہیں لے رہے ہو، بلکہ تم اس کو بدلی ہوئی صورت میں پیش کر رہے ہو۔ آدمی اگر اپنے ضمیر کی اس آواز کو سنے، تو یہ آواز ہی اس معاملے میں اس کی اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔ سوال میں الرسالہ کا پچھلے 6-5 سال سے مسلسل مطالعہ کر رہا ہوں اور الرسالہ کی ہر بات سے اتفاق رکھتا ہوں ۔ الرسالہ میں اسلامی تعلیمات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ پڑھنے اور سننے والے کے مائنڈ کو ایڈرس کرتی ہیں ۔ یہ طریقہ کہیں اور دیکھنے اور سننے میں نہیں آتا۔ میں شروع میں تبلیغی جماعت سے جڑا تھا اور 5-4 بار 3-3 دن بھی لگایا۔ لیکن اس کے بعد جب الرسالہ مجھے ملا اور میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو میری سوئی ہوئی فطرت جاگ اٹھی۔ یہ تجربہ مجھے جماعت میں جانے سے نہیں ہوا تھا۔ تبلیغی جماعت میں دین کے صرف ظاہری فارم کو بنانے کی بات پر زور دیا جاتا ہے، نہ کہ اندرونی انسان سازی پر۔ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ طریقہ امت کے عوام طبقہ کے لیے درست ہو سکتا ہے، جس کو سرے سے اس بات کا علم ہی نہیں کہ دین کیا ہے ، خدا ، رسول اور آخرت کیا ہے۔ لیکن اب میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ عوام ہوں یا خواص، تبلیغی جماعت میں جڑنے کے بعد مسلمان ذہنی جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے سے باہر کسی بات پر سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس لیے کہ اس

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page