زندگی کا فارمولا
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹
کہ قرآن کو صرف علماء ہی سمجھ سکتے ہیں ، عام مسلمان اس کو پڑھنے سے بھٹک سکتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے جماعت کے آدمی کا ذہن ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ خود کسی بات پر کھلے ذہن کے ساتھ سوچ نہیں پاتا۔ بس ایک بات یا جملہ ان کے بڑوں نے کہہ دیا تو وہ پتھر کی لکیر ہوگئی ، صحیح ہے یا غلط اس پر کسی کو عقل لگانے کی ضرورت نہیں۔
میرے ساتھ اللہ کا یہ بڑا احسان ہوا جو اس نے مجھے الرسالہ کے ذریعہ اس گمراہی سے باہر نکال لیا۔ اب میرے ساتھ یہ معاملہ ہو گیا ہے کہ نہ صرف میں خود الرسالہ پڑھتا ہوں ، بلکہ الرسالہ کی اردو اور انگریزی کاپیاں اپنے ساتھ بیگ میں ہمیشہ رکھتا ہوں اور اپنے آفس میں، اور دوستوں کو پڑھنے کے لیے دیتا رہتا ہوں۔ ابھی فی الحال میں نے ایسا کیا ہے کہ میں اپنے رشتہ داروں کے ایڈریس الرسالہ آفس میں ڈی ڈی کے ساتھ بھیجنا شروع کیا ہے اور ایک سال کا الرسالہ مذکورہ لوگوں کے لیے جاری کرایا ہے۔ الرسالہ کے ساتھ ساتھ آپ کی ساری کتابیں بھی میں مسلسل پڑھ رہا ہوں اور اس سے مجھے غیر معمولی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے جو مسلسل الرسالہ اور آپ کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے دور ہو گئے۔ لیکن ایک غلطی کی تلافی کے لیے آپ کی مدد چاہتا ہوں ۔ وہ یہ کہ میری شادی 2004 میں ہوئی، اس میں میری سسرال والوں نے مجھے کافی جہیز دیا جس میں دوسری چیزوں کے ساتھ 10 تولا سونا بھی موجود ہے۔ اس وقت تو میں نے ان کو منع کیا تھا کہ آپ یہ سب چیزیں نہ دیں، لیکن وہ نہیں مانے۔ ظاہر ہے کنڈیشنڈ مائنڈ ہونے کی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا اور میں بھی یہ سارا سامان لے کر گھر چلا آیا۔ اب جیسا کہ آپ کی تحریریں مسلسل پڑھنے سے میری ڈی کنڈیشننگ ہو رہی ہے تو خدا کی پکڑ اور آخرت کے ڈر سے میں یہ سوچ کر پریشان ہو رہا ہوں کہ یہ چیز کہیں آخرت میں گھاٹے کا سبب نہ بن جائے۔ آپ مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ کیا مجھے اس کی رقم اپنے سر کو واپس کرنا چاہیے یا پھر اس کی اور کوئی دوسری صورت ہے جس سے اس کی تلافی ہو سکے۔
قرآن میں جو خدا کی عظمت اور اس کے جلال کا، جنت کا، جہنم کا، قیامت کی ہولناکی کا ذکر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues