Al-Risala · June 2008 · page 38

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۳۸

میں کچھ گنی چنی باتوں کو دہرایا جاتا ہے اور خالص روایتی انداز میں بات کہی جاتی ہے، بنا کسی دلیل کے۔ میرے محلے کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ کچھ دنوں پہلے میری بیٹی کے گھرڈلیوری ہونے والی تھی، میرے داماد پر محلے کی جماعت کے ساتھیوں نے چار مہینہ جماعت میں لے جانے کے لیے زور دیا۔ اس پر میں نے یہ بات جماعت والوں کو بتائی تو انھوں نے کہا کہ سب اللہ اچھا کرے گا۔ ایسا کہہ کر وہ اس کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ دنوں بعد میری لڑکی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ پھر میں اس کو اپنے گھر لایا اور اسپتال میں بھرتی کرایا جس میں مجھے قریب 17000 روپے کا خرچ اٹھانا پڑا۔ نہیں تو میری بچی کی جان خطرے میں تھی۔

یہ بات جب میں نے اپنے داماد کو جماعت سے واپس آنے پر بتائی تو وہ میرا احسان ماننے کے بجائے مجھ سے جھگڑا کرنے لگے اور 17000 میں سے ایک پیسہ بھی مجھے نہیں دیا۔ تب سے مجھے جماعت کے نام سے نفرت ہو گئی ہے۔ یہ بات مذکورہ صاحب نے مجھے اُس وقت بتائی جب میں نے ان سے فجر کی نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلتے وقت پوچھا کہ آج کل آپ تعلیم میں کیوں نہیں بیٹھتے۔ اسی طرح کے اور بھی واقعات ہیں۔

اصل یہ ہے کہ تبلیغی جماعت میں بھیڑ دیکھ کر آدمی اُس سے جڑ تو جاتا ہے لیکن وہ خدا کی معرفت اور دین کی حقیقت سے ہمیشہ بے خبر رہتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد جب میرے اندر صحیح طرز فکر پیدا ہوا تو میں نے ان حضرات سے کہا کہ آپ لوگ صبح شام ایک ہی کتاب پڑھتے رہتے ہیں اور وہ فضائل اعمال ہے۔ اور بات کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی۔ حالاں کہ آپ کا طریقہ تو یہ تھا کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے اور قرآن سے ہی دعوت دیتے تھے، جب کہ ان کی مخاطب قوم تو جہالت کی حد پر تھی۔ پھر جب وہ قوم قرآن کے ذریعے ہمارے لیے نمونہ بنا دی گئی تو ہمیں جھوٹے فضائل کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے۔ جس دین میں خدا کی کتاب ہی کا وجود نہیں، وہ دین کیسا۔

میری اس بات کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ لہذا وہ کسی مفتی سے یہ جواب لے کر آئے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page