زندگی کا فارمولا
الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱
ہوئے تھے اور پھر وہ دل برداشتہ ہو کر اُس سے دور ہو گئے ۔ اُنھوں نے اِس معاملے کو بتاتے ہوئے یہ معنیٰ جملہ کہا تبلیغ والوں نے پہلے میواتیوں کو مسلمان بنایا، اب وہ مسلمانوں کو میواتی بنا رہے ہیں۔ 2- جہیز کے سلسلے میں عرض ہے کہ شادیوں میں جہیز کا موجودہ طریقہ بلاشبہ ایک بدعت ہے۔ اِس اعتبار سے جہیز کے رواج کو ختم کیا جانا چاہیے۔ لیکن ملے ہوئے جہیز کا معاملہ اِس سے الگ معاملہ ہے۔ اِس کی واپسی کی ضرورت نہیں۔ البتہ اگر ممکن ہو تو آپ اس کو کسی تعمیری کام میں استعمال کریں۔ مثلاً اپنے لیے گھر بنانا، وغیرہ۔
سوالات کے سلسلے میں ایک اصولی بات یہ سمجھ لیجیے کہ ایک صحابی کہتے ہیں: نُهینا عن كثرة السؤال (صحیح البخاری، کتاب الرّقاق) یعنی ہم کو زیادہ سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اِس لیے کہ سوال کرنا اِس بات کی علامت ہے کہ آدمی خود غور و فکر کرنے کے بجائے کسی دوسرے سے اپنے سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔ آپ مطالعہ کیجیے اور سوچنے کی عادت ڈالیے، اور کامن سنس (common sense) استعمال کیجیے، آپ کو خود ہی اپنے سوال کا جواب معلوم ہو جائے گا۔ سوال علومِ قطعیہ نے کلّی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف دماغ ہی تمام جذبات و احساسات اور غور و فکر کا مرکز ہے۔ جب کہ ہم اب بھی ایک خاص طریقے پر کچھ مخصوص کلمات کا ورد کر کے قلب پر ضرب لگا کر تطهیر قلب کا دعویٰ کرتے ہیں اور بشمول افرادِ خانہ، محلے کے لوگوں کی نیند خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے بجائے جدید منطق کے پیش نظر، تطهیر دماغ کے لیے آپ ہیمرنگ (hammering) کا نظریہ پیش کرتے ہیں۔ اس کا طریقہ کار کیا ہو، اس کی وضاحت فرمائیے (محمد جمیل اختر، کشن گنج، بہار)۔ جواب ذکرِ بالجہر کا فلسفہ یہ ہے کہ آدمی کا دل اس کے تمام احساسات کا مرکز ہے، بُرے احساسات کا بھی اور اچھے احساسات کا بھی۔ کوئی آدمی جب بلند آواز سے لاإلٰہ کہہ کر اپنے دل پر ضرب لگاتا ہے، تو اس کے دل سے تمام بُرے احساسات نکل جاتے ہیں۔ اور پھر جب وہ بلند آواز سے إلاً الله کہہ کر دوبارہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues