Al-Risala · June 2008 · page 42

زندگی کا فارمولا

الرسالہ، جون ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

اپنے دل پر ضرب لگاتا ہے، تو اس کا دل تمام اچھے احساسات سے بھر جاتا ہے۔ قدیم روایتی دور میں ایک مفروضہ کے طور پر اس کو مان لیا گیا تھا، لیکن موجودہ سائنسی دور میں یہ نظریہ بے بنیاد (baseless) ثابت ہو چکا ہے۔ اب دل پر ضرب لگانا ، ٹھیک ویساہی ہے جیسے ہاتھ کی ہتھیلی پر ضرب لگانا۔ دین میں تزکیہ بلا شبہ ایک مطلوب عمل ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل ذہن کی سطح پر انجام پاتا ہے۔ کیوں کہ انسان کا ذہن ہی ہر قسم کے افکار اور احساسات کا مرکز ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، ہر انسان اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اُسی میں آدمی کے ذہن کی کنڈیشننگ (conditioning) ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اس ذہنی کنڈیشننگ کو ’’ضرب‘‘ کا موضوع بنایا جائے، یعنی فکری ضرب (intellectual beating) کے ذریعے اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کی جائے۔ اسی فکری ضرب کا دوسرا نام فکری ہیمرنگ (intellectual hammering) ہے۔

سوال

آپ کی مایہ ناز کتاب ’’مسائلِ اجتہاد‘‘ واقعی حکمت کا مخزن ہے۔ صفحہ 37 میں مغل بادشاہ اکبر کے موقف تالیفِ قلب کے لیے آپ نے سراہا ہے۔ تائید میں ایک اقتباس از سید حسین احمد مدنی بحوالہ مکتوبات شیخ الاسلام (صفحہ 141) بطور دلیل درج ہے، جب کہ اکبر نے جودھا بائی سے مشرکانہ رواج میں شادی کی اور ایک مشرکہ سے نکاح اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ (البقرہ: 221) اتنی اچھی کتاب ہے آپ کی، مگر اکبری دین کی حمایت میں یہ کیسا داغ اس میں موجود ہے (نثار احمد خاں السلفی، مومن پورہ، ناگ پور)۔

جواب

مذکورہ کتاب میں اکبر کی مثال ایک معیاری مسلمان کی حیثیت سے نہیں دی گئی ہے۔ اس مضمون کا مقصد اکبر کی مجموعی زندگی پر رائے دینا نہیں ہے، بلکہ اکبر کی زندگی کے صرف ایک مثبت پہلو کو بتانا ہے۔ اور اس قسّم کا مثبت پہلو کسی بھی شخص کی زندگی میں ہو سکتا ہے۔ آپ کا سوال اس معاملے میں

‹ Previous page Next page › Contents of June 2008 All issues

Printed page