ماڈرن ایج اور اسلام
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۷
ماڈرن ایج اور اسلام
ماڈرن ایج (modern age) اور اسلام کے موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایک نقطۂ نظر یہ ہے کہ ماڈرن ایج نے نظریہ اور عمل کے سارے ڈھانچے کو بدل دیا ہے، اس لیے اب ضرورت ہے کہ اسلام پر نظرثانی کی جائے۔ اس نقطۂ نظر کا ایک نمونہ اے اے فیضی (وفات: 1981) کی کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے:
A Modern Approach to Islam
دوسرا نقطۂ نظریہ ہے کہ ماڈرن ایج کوئی چیز نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ اسلام کو موجودہ زمانے میں سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہے، اس بنا پر سارے مسئلے پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو پھر سے عالمی سطح پر سیاسی غلبے کے مقام تک پہنچایا جائے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی اور سید قطب وغیرہ کا نقطۂ نظر یہی تھا۔ اس نقطۂ نظر کے حامل افراد کا ماننا ہے کہ مسلح جہاد کے ذریعے اسلام کو دوبارہ غلبہ عطا کیا جائے، اور ساری دنیا میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے۔
میرے نزدیک اس قسم کی تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ماڈرن ایج کو سمجھا جائے اور تجزیاتی مطالعے کے ذریعے اُس کے مقابلے میں اسلام کا موقف متعین کیا جائے۔ اس کام میں ہمارے لیے رہ نما اصول، حدیث کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ: خُذ ما صفا وَ دَع ما كدر۔ یعنی جو چیز حق کے مطابق ہو، اُس کو لے لو اور جو چیز حق کے مطابق نہ ہو اُس کو چھوڑ دو۔
میں نے اپنے مطالعے سے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایج بنیادی طور پر تین چیزوں کا نام ہے— (1) جدید سائنسی دریافتیں (2) جدید کلچر (3) جدید فلسفیانہ افکار۔ اب میں ان تینوں کے بارے میں مختصر طور پر اپنا حاصل مطالعہ بیان کروں گا۔
1- جدید سائنسی دریافتیں کیا ہیں۔ وہ اصلاً مغربی تہذیب یا سیکولر تہذیب کا حصہ نہیں، وہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues