Al-Risala · January 2008 · page 26

sight, touch, taste, smell and hearing

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

ایک ایسا اعزاز ہے جس سے بڑا کوئی اعزاز ممکن نہیں۔

خدا قادر مطلق ہے۔ وہ ہر معلوم اور نامعلوم کام کو انجام دینے کی مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے پتھروں کو گویا کر دے، وہ درخت کی ہر پتی کو زبان بنا دے جس سے وہ خدا کے پیغامات کا اعلان کرنے لگیں، مگر یہ خدا کا طریقہ نہیں۔ خدا یہ چاہتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اس کے پیغام کی پیغام رسانی خود انسان ہی انجام دے، تاکہ التباس کا پردہ باقی رہے، تاکہ امتحان کی مصلحت مجروح نہ ہونے پائے۔

دعوت جس کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے، وہ براہِ راست خدا کا کام ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ حجت، خدا پر نہ رہے بلکہ وہ انسانوں کی طرف منتقل ہو جائے ۔ مگر امتحان کی مصلحت کا تقاضا ہے کہ یہ کام کسی معجزاتی اسلوب میں انجام نہ پائے، بلکہ انسانوں میں سے کوئی انسان اسے انجام دے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر اس خدائی کام کو انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔

اس صورت حال نے انسان کی لیے عظیم ترین عمل کا دروازہ کھول دیا ہے۔ جو لوگ دعوت کے اس خدائی عمل کے لیے اٹھیں، ان کو دنیا کی زندگی میں نہایت خصوصی مدد حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں ان کو اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جائے گا۔

ایک بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے آگے اپنے عجز کا اقرار کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں جب وہ دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ وہ خود خدا کا ایک کام انجام دے رہا ہے۔ کسی بندے کے لیے بلاشبہ اس سے زیادہ لذیذ کوئی تجربہ نہیں کہ وہ یہ محسوس کرے کہ میں اپنے رب کے کام میں مصروف ہوں، میں اپنے رب کے ایک منصوبے کی تکمیل کر رہا ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page