قربِ قیامت کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲
قربِ قیامت کا مسئلہ
ماہ نامہ الرسالہ کے پچھلے شماروں میں کچھ مضامین شائع ہوئے ہیں۔ یہ مضامین گلوبل وارمنگ (global warming) کے بارے میں ہیں۔ گلوبل وارمنگ ایک نیا ظاہرہ (phenomenon) ہے۔ سائنسی مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعے یہ الارمنگ صورت حال سامنے آئی ہے کہ زمین کے درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ سے زمین پر پہلی بار ایک خطر ناک صورت حال پیش آ رہی ہے، ایک ایسی صورت حال جو انسان جیسی مخلوق کے لیے زمین کو ناقابلِ رہائش (inhabitable) بنا دے۔ سائنس دانوں کا متفقہ طور پر یہ کہنا ہے کہ یہ صورت حال ناقابلِ تبدیلی (irreversible) ہے۔ یہاں تک کہ سائنسی حلقوں میں اس طرح کے الفاظ بولے جا رہے ہیں کہ ـــ اب قیامت زیادہ دور نہیں: Doomsday is not far یہ بات جو سائنس کے حوالے سے الرسالہ میں آئی ہے، وہ قرآن اور حدیث کی پیشین گوئی کے عین مطابق ہے۔ پچھلے مضامین میں ہم ، قرآن اور حدیث سے اس قسم کے حوالے نقل کر چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بات قرآن اور حدیث میں چودہ سو سال پہلے کہی گئی تھی، وہ اب علمِ انسانی کے ذریعے ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ یہ بات بے حد سنجیدہ ہے۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دل دہل اٹھیں ۔ وہ اپنی تو جہات کو دوسری چیزوں سے ہٹا کر آخرت کی طرف لگا دیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ کچھ افراد نے الرسالہ میں چھپنے والی ان باتوں کا منفی اثر لیا۔ انھوں نے استہزا کے انداز میں کہا کہ الرسالہ والے اب بے عقلی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ ابھی کیسے قیامت آسکتی ہے۔ ابھی تو دجّال ظاہر نہیں ہوا۔ ابھی تو مسیح آسمان سے نہیں اترے، ابھی تو اللہ ، اللہ کہنے والوں کا دنیا سے خاتمہ نہیں ہوا، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں سرتاسر غیر متعلق باتیں ہیں۔ لوگ جن چیزوں کا انتظار کر رہے ہیں، وہ کسی ہمالیائی اعلان کے ساتھ نہیں آئیں گی ۔ وہ خدائی قانون کے مطابق ، التباس (شبہہ) کے پردے میں آئیں گی۔ حتی کہ عین ممکن ہے کہ وہ چیزیں جن کا لوگ انتظار کر رہے ہیں، وہ عملاً پیش آچکی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues