قربِ قیامت کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳
ہوں۔ عین ممکن ہے کہ قربِ قیامت سے پہلے جو کچھ ہونے والا تھا، وہ ہو چکا ہو، مگر چوں کہ قانونِ الہی کے مطابق، ہمیشہ سچائی کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) موجود رہتا ہے (الأنعام: 9) اس لیے ظاہر ہونے کے باوجود لوگ ان علامتی واقعات کو پہچاننے سے قاصر ہوں۔ عین ممکن ہے کہ لوگ اسی طرح خود ساختہ انتظار کے خول میں پڑے رہیں اور صورِ اسرافیل کی چنگھاڑ اچانک بلند ہو کر اُن کو یہ خبر دے کہ اب ان کے لیے انتظار کا وقت ختم ہو گیا۔ اب ان کے لیے جو چیز مقدر ہے، وہ صرف حسرت ہے، اور ابدی حسرت۔
سائنس دانوں کے یہ بیانات بلاشبہہ قطعی مشاہدات اور قطعی حسابات (calculations) پر مبنی ہیں۔ ان مشاہدات پر ان کی واقعیت کے اعتبار سے شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان بیانات کو اسی طرح مستند (authentic) سمجھا جاتا ہے جس طرح زمین اور سورج اور چاند کے بارے میں ان کے حسابات کو مستند سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کے مقابلے میں صحیح رَدِ عمل یہ تھا کہ لوگ اپنے روایتی ماحول سے باہر آکر یہ سوچیں کہ ایسا تو نہیں کہ قرآن اور حدیث میں جس قیامت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، واقعتا وہ قریب آگئی ہو۔ ایسا تو نہیں کہ قیامت سے پہلے جن علامتوں کو ظاہر ہونا تھا، واقعتا وہ ظاہر ہو چکی ہوں، اور ہم اپنے خود ساختہ تصورات کی بنا پر اس کو سمجھنے میں ناکام ہورہے ہوں ۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ دوسرے تمام معاملات میں سائنس کے مشاہدات کو وہ درست مانتے ہیں۔ مثلاً چاند گرہن (Lunar eclipse) اور سورج گرہن (Solar eclipse) کے بارے میں سائنس دانوں کی خبر پر کوئی شک نہیں کرتا۔ اسی طرح چاہیے کہ لوگ قربِ قیامت کے بارے میں سائنس دانوں کے مشاہدات پر بطورِ واقعہ شک نہ کریں۔ ان کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سائنس دانوں کے مشاہدات پر شک کرنے کے بجائے خود اپنے روایتی تصورات پر نظر ثانی کریں، وہ سوچیں کہ جن علامت قیامت کے بارے میں وہ بطورِ خود کراماتي اور معجزاتی نوعیت کے تصورات قائم کئے ہوئے تھے، ہو سکتا ہے کہ اُن کے یہ مفروضہ تصورات بے اصل ہوں، اور ظاہر ہونے والی علامتیں عام واقعات کی طرح اسبابِ عادی کے نقشے میں ظاہر ہو چکی ہوں، اور ہم اپنے خود ساختہ روایتی تصور کی بنا پر ان کو پہچاننے سے قاصر ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues