Al-Risala · July 2008 · page 7

قربِ قیامت کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۷

یہ بات بے حد اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں لوگوں کو ان روایتوں کی خبر ہی نہ تھی۔ اگر اُس زمانے کے لوگ ان روایتوں سے باخبر ہوتے ، تو ضرور ایسا ہوتا کہ آج کے لوگ اس معاملے میں جس طرح کی بحثیں نکال رہے ہیں ، یہ بحثیں دورِ اول ہی میں ظاہر ہو چکی ہوتیں۔ جیسا کہ معلوم ہے ، صحابہ اور تابعین کثرت سے لوگوں کو قربِ قیامت سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ اگر اُس زمانے کے لوگ نزولِ مسیح جیسی روایتوں سے باخبر ہوتے ، تو صحابہ اور تابعین کے زمانے کے لوگ ضرور یہ کہتے کہ آپ جس قیامت کے قریب ہونے کی خبر دے رہے ہیں، وہ تو ابھی بہت دور ہے۔ کیوں کہ اس کی علامتیں ابھی تک ظاہر نہیں ہوئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ قربِ قیامت کی جو علامتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ بجائے خود درست ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے میں قصاص (story tellers) نے اُس میں پرُ عجوبہ باتوں کے اضافے کر دیے۔ یہ اضافے چوں کہ عربی زبان میں تھے، اس لیے لوگ اُن کو اصل روایت کا حصہ سمجھنے لگے۔ اُس زمانے میں کتابت کا رواج بہت کم تھا۔ زیادہ تر باتیں زبانی طور پر دہرائی جاتی تھیں، اس لیے یہ اضافے نہایت آسانی کے ساتھ روایات کا جز بن گئے۔

اس معاملے میں آخری بات یہ ہے کہ اس قسم کی پیشین گوئی ہمیشہ تمثیل کی زبان میں ہوتی ہے، وہ تصریحات اور تعینات کی زبان میں نہیں ہوتی۔ اور جو چیز تمثیل کی زبان میں ہو، اس کو محض لفظی طور پر لے کر اس کا مطلب سمجھا نہیں جاسکتا، بلکہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنی عقل کو استعمال کیا جائے، تاکہ سطور (lines) کے ماورا جو بین السطور (between the lines) ہے، اس کو سمجھا جاسکے۔ یہی معاملہ علاماتِ قیامت کی روایات کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دجال اور مسیح کی پیشین گوئیاں تمثیل کی زبان میں ہیں۔ جب تک اس حقیقت کو ذہن میں نہ رکھا جائے، ان روایتوں کو سمجھنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page