Al-Risala · July 2008 · page 6

قربِ قیامت کا مسئلہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۶

اطمینان کے ساتھ اپنا گھر بناتے رہتے، اور یہ کہتے کہ ابھی تو قیامت بہت دور ہے۔ ابھی تو اس کی فلاں فلاں علامتیں ظاہر نہیں ہوئیں، پھر اس سے پہلے قیامت کیسے آجائے گی۔ 3۔ صحابی رسول انس بن مالک کہتے ہیں کہ : إن كانت الريح، فنبادر المسجد مخافة القيامة (سنن أبي داؤد، كتاب الصلاة، باب : الصلاۃ عند الظلمة) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر کبھی تیز ہوا بھی چلتی، تو ہم (اصحابِ رسول) دوڑ کر مسجد میں چلے جاتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں قیامت نہ آگئی ہو۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کا مزاج کیا تھا۔ اُن کا مزاج، قرآن کی اس آیت سے بنا تھا :إنهم يرونه بعيداً، ونراه قريبأ (المعارج: یعنی لوگ قیامت کو دور سمجھتے ہیں، اور خدا اُس کو قریب دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح ان کی مزاج سازی اس حدیث رسول سے ہوئی تھی، ألا، كلّ ما هو آت قریب (ابن ماجة، مقدمه) یعنی آگاہ رہو کہ ہر وہ چیز جو آنے والی ہے، وہ بالکل قریب ہے۔

اصحابِ رسول کا مزاج اگر وہ ہوتا جو آج کل کے لوگوں کا مزاج ہے، تو ”آندھی‘‘ کو دیکھ کر وہ یہ کہتے کہ ابھی قیامت کہاں۔ ابھی تو وہ تمام نشانیاں ظاہر نہیں ہوئیں، جو قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ہیں۔ مثلاً دجال کا ظاہر ہونا، مہدی کا پیدا ہونا، اور مسیح کا آسمان سے اترنا، وغیرہ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ صحابہ، اسلام میں ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانے کے لوگوں کا ذہن صحیح ذہن نہیں، کیوں کہ وہ صحابہ کے ذہن کے خلاف ہے۔ مصر کے مشہور عالم محمد بن احمد ابوزہرہ (وفات: 1974) نے نزول مسیح کی روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ: أنّها أحاديث آحاد، وليست متواترة، لم تشتهر قط إلا بعد القرون الثلاثة الأولى (مجلة: ”لواء الإسلام“ اپریل 1963 ،صفحہ 261؛ بحوالہ: ”المسيحية“ 1998)، صفحہ: 66، الدكتور أحمد شلبی) یعنی یہ حدیثیں روایات آحاد پر مبنی ہیں، وہ متواتر روایتیں نہیں۔ وہ صرف ابتدائی تین صدیوں کے بعد لوگوں کے درمیان پھیلیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page