ہیمرنگ کی زبان
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۰
ہیمرنگ کی زبان
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی تیرہ سال تک مکہ میں رہے، اس کے بعد آپ مدینہ چلے گئے اور آخر وقت تک وہیں رہے۔ پہلے دور کو مکی دور کہا جاتا ہے اور دوسرے دور کو مدنی دور۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 (الکافرون) کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا: قل يا أيها الكافرون (کہو کہ اے کافرو)۔ اس خطاب کے بعد سورہ میں فرمایا گیا تھا کہ: ولا أنتم عابدون ما أعبد (تم اس کی عبادت نہیں کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں)۔
مذکورہ خطاب ثابت شدہ طور پر قدیم اہل مکہ سے تھا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے تقریباً آٹھ سال بعد مکہ فتح ہوا، اور مکہ کے تمام لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہی واقعہ ہے جس کو قرآن کی سورہ نمبر 110 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا: إذا جاء نصر الله والفتح، ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجاً (النصر : یعنی جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے، اور تم دیکھو کہ لوگ، فوج در فوج، خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جب مکہ کے تمام لوگ آئندہ مومن اور مسلم بننے والے تھے تو ان کو ’’کافر‘‘ کے لفظ سے کیوں خطاب کیا گیا، اور کیوں یہ کہا گیا کہ تم لوگ خدا کی عبادت کرنے والے لوگ نہیں ہو، حالاں کہ خدائے عالم الغیب کو اس ہونے والے واقعے کا پورا علم تھا۔
اس فرق کا سبب یہ تھا کہ یہاں قانون کی زبان استعمال نہیں کی گئی ہے، بلکہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) استعمال کی گئی ہے۔ ہیمرنگ کی زبان قانون اور منطق کی زبان نہیں ہوتی۔ اُس میں شدت کلام کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو خدا کی نظر میں تم ’’کافر‘‘ قرار پاؤ گے اور آخر کار جہنم کے مستحق ٹھہرو گے۔ گویا کہ تشدید کی زبان میں یہ ایمان کی دعوت تھی، نہ کہ ان کے کفر کا اعلان۔ اگر یہ ان کے کفر کا اعلان ہوتا، تو فتح مکہ کے بعد وہ تمام لوگ جوق در جوق خدا کے دین میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues