تحقیق کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۱۱
تحقیق کے بغیر
24 اپریل 2008 کو ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ وہ نہایت جوش کے ساتھ بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ماہ نامہ الرساله (اپریل 2008) میں ایک مضمون چھپا ہے۔ اُس کا عنوان ہے— سفارش نہیں، استحقاق (صفحہ: 3)۔ اِس مضمون میں آپ نے یہ کہا ہے کہ جنت کسی کو صرف استحقاق کی بنیاد پر ملے گی، نہ کہ سفارش کی بنیاد پر۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیسے لکھ دیا، حالاں کہ حدیث میں آیا ہے: يشفع يوم القيامة ثلاثة: الأنبياء، ثم العلماء، ثم الشهداء (ابن ماجه، کتاب الزهد) یعنی قیامت کے دن تین لوگ شفاعت کریں گے— انبیاء، علماء اور شہداء۔ اِس روایت کو علماء نے موضوع (fabricated) قرار دیا ہے۔ مشکوٰة المصابیح (رقم الحديث: 5611) میں مشہور محدث محمد ناصر الدین الالبانی (وفات: 1999) نے اِس حدیث کے تحت حاشیے میں یہ الفاظ لکھے ہیں:
حديث موضوع، في سنده عنبسة بن عبد الرحمن. قال أبو حاتم: كان يضع الحديث (صفحه: 1561) یعنی یہ حدیث موضوع ہے۔ اس کی سند میں عنبسہ بن عبد الرحمن ہے۔ ابو حاتم نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ وہ حدیث وضع کرتا تھا۔
لوگ عام طور پر ایسا کرتے ہیں کہ وہ خطیبوں اور واعظوں کی زبان سے ’حدیث‘ سنتے ہیں۔ چوں کہ یہ حدیث عربی الفاظ میں ہوتی ہے، اس لیے لوگ اس کو قول رسول سمجھ لیتے ہیں اور اس کو بطور قول رسول بیان کرنے لگتے ہیں، مگر یہ طریقہ درست نہیں۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب کسی بات کو سنے، تو وہ اُس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر کسی بات کا چرچا شروع کردینا، ایک خطرناک عادت ہے۔ اسی قسم کی عادت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے: کفیٰ بالمرءِ کذباً أن یحدث بکلِّ ما سمع (صحیح مسلم بحوالہ: مشکوٰة المصابیح، رقم الحدیث: 156) یعنی کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے صرف یہی بات کافی ہے کہ وہ سنی ہوئی بات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues