Al-Risala · January 2008 · page 2

قرآن اور حدیث

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲

قرآن اور حدیث

خلیفۂ چہارم حضرت علی بن ابی طالب (وفات : 661ء) کے زمانے میں کچھ لوگ تھے جنھوں نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ: حسبنا کتاب الله (ہمارے لیے خدا کی کتاب کافی ہے)۔ آج بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ ہے، جو یہ کہتا ہے کہ دین کو سمجھنے کے لیے ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں، قرآن ہمارے لیے کافی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ صرف غیر سنجیدہ ذہن ہی ایسی بات کہہ سکتا ہے۔ اس قسم کے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے یہ انتخاب (option) ہی نہیں کہ ہم ایک کو چھوڑیں اور دوسرے کو لے لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فہم دین کے لیے دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ علمی اعتبار سے ایک اور دوسرے کے درمیان فرق کرنا ممکن ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں حدیث رسول ہیں۔ ایک، اگر سادہ معنوں میں حدیث ہے تو دوسری، گویا کہ حدیثِ قدسی ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ قرآن ایک مجلّد کتاب کی صورت میں آسمان سے نہیں اترا۔ قرآن بھی ہمیں اُسی طرح پیغمبر کے ذریعے ملا جس طرح حدیث ہم کو پیغمبر کے ذریعے ملی ہے۔ حدیث کی سند یہ ہے کہ - پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک حدیث کا ذخیرہ منتقل ہوتے ہوئے ہم تک پہنچا ہے۔ یہی معاملہ قرآن کا بھی ہے۔ قرآن کی سند یہ ہے کہ - اللہ تعالیٰ نے کہا جبریل سے، جبریل نے کہا پیغمبر اسلام سے، پیغمبر اسلام نے کہا صحابہ سے، صحابہ نے کہا تابعین سے، تابعین نے کہا تبع تابعین سے۔ اس طرح سلسلہ بہ سلسلہ گزرتے ہوئے، قرآن ہم تک پہنچا۔ پھر دونوں میں فرق کیوں۔

یہ صحیح ہے کہ بعد کے زمانے میں حدیث کے ذخیرے میں بہت سی موضوع روایتیں شامل ہوگئیں، مگر یہ معاملہ صرف حدیث کے ساتھ مخصوص نہیں۔ خود قرآن کے معاملے میں بھی عملاً ایسا ہی ہوا ہے۔ قرآن کا عربی متن (text) بلاشبہ اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے، لیکن قرآن کی ہر آیت تشریح طلب ہے اور اس تشریح و تفسیر میں بعد کے زمانے میں مختلف قسم کی ملاوٹیں ہوگئی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page