Al-Risala · January 2008 · page 3

قرآن اور حدیث

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۳

آپ قرآن کی ایک تفسیر کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ قرآن، سیاست اور حکومت کی کتاب ہے۔ آپ دوسری تفسیر کو پڑھیں تو ایسا معلوم ہوگا کہ قرآن، تصوف اور روحانیت کی کتاب ہے۔ اِسی طرح اگر آپ ایک اور تفسیر پڑھیں تو قرآن، فقہی مسائل کا مجموعہ دکھائی دے گا۔ اِسی طرح آپ ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو اُس میں دکھائی دے گا کہ قرآن تمام مُبتَدِعانَہ عقائد اور رسوم کی تصدیق کے لیے آیا ہے۔ ایک اور تفسیر کو پڑھیے تو ایسا محسوس ہوگا یا کہ قرآن اس لیے آیا کہ ،نعوذ باللہ، وہ دنیا کو یہ بتائے کہ پیغمبرِ اسلام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب کے بعد ایک اور پیغمبر دنیا میں آنے والا ہے، وغیرہ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ قرآن اور حدیث دونوں کے معاملے میں علماء اسلام نے ایسے محکم اصول وضع کر دیے ہیں کہ ہم تفسیری اضافوں یا موضوعی اضافوں کے باوجود قرآن اور حدیث کی اصل تعلیمات تک پہنچ سکیں۔ ایسی حالت میں ہم کو نہ قرآن کے تفسیری اضافوں سے کسی شبہ میں پڑنا ہے، اور نہ حدیث کے موضوعی اضافوں سے۔

اس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ اس کے بعد ہم کو عملی نمونے کی ضرورت ہے ۔ یہ معاملہ ویسا ہی ہے جیسے سائنس میں تھیوری (theory) کے بعد پریکٹیکل (practical) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس مقصد کے لیے ایک زندہ نمونے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں یہی زندہ نمونہ ہمارے لیے قائم فرمایا (الاحزاب: 21)۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ قول کوئی سنجیدہ قول نہیں، وہ صرف ایک غیر سنجیدہ قول ہے کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے، ہم کو حدیث کی ضرورت نہیں۔ جو آدمی سچائی کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور خدا سے ڈرتا ہو، وہ کبھی ایسی بات کہہ سکتا۔ کیوں کہ دینی یا علمی کسی بھی اعتبار سے، قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ ہم کو رہ نمائی کے لیے خدا کافی ہے، ہم کو پیغمبر کی ضرورت نہیں۔ بلاشبہ ہدایت کا سر چشمہ خدا ہے، لیکن خود قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا اپنی ہدایت پیغمبر کے ذریعے بھیجتا ہے، وہ خود کتاب لے کر انسان کے پاس نہیں آتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page