A Modern Approach to Islam
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹
ہے۔ ایک وہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہے، اِس بنا پر وہ اسلام کے لیے بھی پوری طرح قابل قبول ہے۔ اس کلچر کا دوسرا حصہ وہ ہے جو ذہنی بے راہ روی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، اس بنا پر وہ اسلام کے لیے قابل قبول نہیں۔
مثال کے طور پر جدید مغربی کلچر میں انسانی احترام کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس بنا پر ان کے یہاں نہایت اعلیٰ روایات قائم ہوئی ہیں۔ مثلاً ہر انسان کے لیے اظہار خیال کی کامل آزادی ہونا۔ ہر انسان کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر مقام ملنا۔ تنقید (dissent) کو انسان کا غیر مشروط حق قرار دینا۔ محروم (disabled) افراد کو ہر اعتبار سے برابر کا درجہ عطا کرنا، وغیرہ۔ یہ قدریں (values) اسلام میں موجود تھیں، لیکن مغربی کلچر کا یہ کارنامہ ہے کہ اُس نے ان قدروں کو باقاعدہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ دے دیا ۔ اس قسم کی چیزیں اسلام میں بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ وہ جدید تہذیب میں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ البتہ جدید کلچر میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً عورتوں کے لیے عریانیت (nudity)، بے پردگی کا فیشن، باقاعدہ نکاح سے قبل لڑکوں اور لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط، شراب کا عمومی رواج، انٹرٹین منٹ کا بے قید کلچر، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں۔ اس لیے وہ کبھی بھی اسلام کے دائرے میں قبول نہیں کی جاسکتیں۔ 3- تیسرا پہلو جدید دور کے فلسفیانہ افکار سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فلسفہ اور افکار کے تحت کچھ نئے نظریات وجود میں آئے ہیں جن کو سائنسی افکار کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اُن کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں ان کو سائنس کی غلط توجیہہ و تعبیر کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی غور و فکر کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات میں اسباب وعلل کا نظام ہے۔ اس کو اہل سائنس کے درمیان قانونِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ اس کو لے کر کچھ سیکولر ذہن کے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ سائنس کی اس تحقیق نے خدا کے وجود کی نفی کردی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واقعات اگر فطری اسباب کے تحت صادر ہوتے ہیں تو وہ مافوق الفطری اسباب کے پیدا کیے ہوئے نہیں ہو سکتے:
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues