Al-Risala · January 2008 · page 30

A Modern Approach to Islam

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰

یہ سائنس کے نام پر صرف ایک فلسفیانہ مغالطہ ہے، کیوں کہ نیچر کی دریافت صرف خدا کے طریق کار کی دریافت ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے خدا کے وجود کی نفی نہیں۔ اس فکر کا تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) میں لکھا ہے کہ۔ نیچر کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے:

یہی معاملہ عضویاتی ارتقا (organic evolution) کا ہے۔ سیکولر مفکرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک سائنٹفک نظریہ ہے۔ چوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں خصوصی تخلیق کا تصور ہے، جب کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ مفروضہ ارتقائی پر اس کو خدا کا درجہ دے رہا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ارتقا کے نظریے نے خدا کے تصور کی نفی کر دی ہے۔

مگر یہ سرتا سر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ صرف ایک مفروضہ ہے، وہ کوئی حقیقی نظریہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ زندگی کی بے شمار انواع جو زمین میں پائی جاتی ہیں، اُن کے اندر جسمانی مشابہت ہے۔ اس مشابہت کو لے کر یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ ایک زندہ نوع سے دوسری نوع نکلی۔ مثلاً بکری ارتقا کرتے کرتے زرافہ بن گئی، یا بلی نے ارتقا کرتے کرتے شیر کی صورت اختیار کر لی، وغیرہ۔

اس نظریے کی بنیادی کمی یہ ہے کہ اْس نے انواع کے درمیان مشابہت کا ثبوت تو پیش کیا، لیکن وہ اس کا کوئی بھی ثبوت پیش نہ کر سکا کہ ایک نوع کے بطن سے دوسری نوع برآمد ہوگئی۔ یہ نظریہ اتنا ہی بے بنیاد ہے جتنا یہ کہنا کہ بیل گاڑی کے اندر سے بگھی نکل آئی، بگھی کے اندر سے موٹر کار برآمد ہوگئی، موٹر کار کے اندر سے ہوائی جہاز نکل آیا اور ہوائی جہاز کے اندر سے راکٹ پیدا ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عضویاتی ارتقا کا نظریہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ وہ نہ کوئی سائنٹفک نظریہ ہے اور نہ اْس کی وجہ سے اسلام کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues

Printed page