Al-Risala · July 2008 · page 20

'Doomsday Vault' Comes to Life

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۰

بنائے گئے ہیں۔ ان حفاظتی کمروں میں دنیا بھر کے دولاکھ پچاس ہزار قسم کے مختلف بیجوں کے نمونے (samples) رکھے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک عالمی تنظیم (Global Crop Diversity Trust) بنائی گئی ہے۔

مذکورہ خبر مشہور نیوز ایجنسی اے پی ایف (APF) کے حوالے سے میڈیا میں آئی ہے۔ اس رپورٹ کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے ناروے کا منصوبہ ہے کہ وہ انسان کے لیے نوح جیسی ایک غذائی کشتی فراہم کرے، تاکہ وہ آنے والی عالمی مصیبت سے اپنے آپ کو بچاسکے: Longyearbyen (Norway): Aimed at providing mankind with a Noah's Ark of food in the event of a global catastrophe, and Arctic "Doomsday Vault" filled with samples of important seeds. (p.21)

مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ناروے میں پہاڑ کے اوپر بنائے جانے والے غذائی گودام کو سفینہ نوح (Noah's Ark) کے معاملے سے تشبیہہ دینے کے بجائے نوح کے بیٹے کنعان کے معاملے سے تشبیہ دی جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر نوح کے آخری زمانے میں جب عمومی سیلاب آیا، تو پیغمبر نوح کے باغی بیٹے کنعان نے کہا کہ میں کسی پہاڑ کے اوپر پناہ لےلوں گا، اور وہ مجھ کو سیلاب کی زد سے بچالے گا: I will be take myself for refuse to a mountain, that shall protect me from the water (11:43). پیغمبر نوح نے اپنے بیٹے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کا معاملہ ایک خدائی معاملہ ہے، کوئی پہاڑ تم کو اس سے نہیں بچا سکتا (هود: 43)۔ طوفانِ نوح کے بارے میں پیغمبر کی یہ بات صحیح ثابت ہوئی اور پیغمبر اور ان کے کچھ ساتھیوں کے سوا کوئی بھی اس طوفان سے محفوظ نہیں رہا۔ یہی معاملہ آنے والے طوفانِ قیامت کا بھی ہے۔ پہاڑ کی کوئی چوٹی یا کوئی غذائی گودام انسان کو اس طوفان کی زد سے بچانے والا نہیں۔ آنے والا طوفان موجودہ صورتِ حال کو یک سر بدل دے گا۔ جب یہ طوفان آئے گا، تو کوئی بھی انسان اُس سے اپنا بچاؤ نہ کر سکے گا۔

قدیم زمانے میں انسانی آبادی صرف میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کے علاقے میں پائی جاتی تھی۔ میسوپٹامیا اُس علاقے کو کہا جاتا ہے جو دریائے دجلہ اور دریائے فرات کے درمیان واقع ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page