Al-Risala · July 2008 · page 21

'Doomsday Vault' Comes to Life

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۱

یہاں کی آبادی میں بگاڑ پیدا ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ خدا نے ان کو بہت لمبی عمر دی۔ وہ ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کے درمیان موجود رہے۔

لمبی مدت تک حضرت نوح کی دعوتی کوششوں کے باوجود صرف چند لوگوں نے خدا کے پیغام کو مانا۔ ان کی بھاری اکثریت انکار اور گمراہی میں پڑی رہی۔ آخر کار حضرت نوح نے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی، تو یہاں ایک بہت بڑا سیلاب آئے گا اور تم سب کے سب لوگ اس میں ہلاک ہو جاؤ گے۔ لوگوں نے حضرت نوح کے اس انتباہ (warning) کو نظر انداز کر دیا۔ آخر کار ایک عظیم سیلاب آيا۔ اس سیلاب میں یہ پورا آباد علاقہ پانی میں ڈوب کر تباہ ہو گیا۔ یہ قدیم زمانے کا طوفانِ نوح تھا۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب غالباً جلد ہی طوفانِ قیامت آنے والا ہے۔ اس نئے شدید تر طوفان کی زد میں ساری دنیا آجائے گی، صرف وہ تھوڑے سے لوگ اس عمومی تباہی سے بچا لیے جائیں گے جو بگاڑ میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔

موجودہ زمانہ گویا کہ خدائی نعمتوں کے انفجار (explosion) کا زمانہ تھا، لیکن نعمتوں کی کثرت نے صرف لوگوں کی سرکشی میں اضافہ کیا۔ لوگوں نے ان نعمتوں کو بھر پور طور پر استعمال کیا، لیکن وہ ہمیشہ سے زیادہ منعم سے دور ہو گئے۔ آزادی کے نام پر سرکشی موجودہ زمانے کا عام کلچر بن گیا۔ قدیم طوفان کے خلاف پیشگی انتباہ، پیغمبر نوح نے دیا تھا۔ جدید طوفان کے خلاف پیشگی انتباہ ماڈرن سائنس دے رہی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ساری دنیا کے سائنس داں مسلسل یہ خبریں دے رہے ہیں کہ برف کے بھاری ذخیرے پگھل رہے ہیں۔ گلیشئر کی برف، قطب شمالی (North Pole) اور قطب جنوبی (South Pole) کی برف نہایت تیزی سے پگھل کر سمندروں میں شامل ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے ذریعے ہو رہا ہے۔ اس کو گلوبل وارمنگ (global warming) کہا جاتا ہے۔ برفانی پہاڑوں کے پگھلنے سے مسلسل سمندروں کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2050 تک یہ تبدیلی اپنی آخری حد پر پہنچ جائے گی۔ یہ ایک شدید تر قسم کا نیا طوفانِ نوح ہوگا اور دنیا کی تمام آبادی اس کی زد میں آ کر ختم ہو جائے گی۔ صرف

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page