Al-Risala · July 2008 · page 24

دعوت الی اللہ کے تین دور

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴

یستہزون (يس: 30)۔ یعنی بندوں پر افسوس ہے۔ اُن کے پاس جب بھی کوئی پیغمبر آیا، تو انھوں نے اُس کو حقیر سمجھا اور اس کا مذاق اُڑایا۔

پیغمبروں کے ذریعے دعوت کا یہ سلسلہ حضرت ابراہیم تک جاری رہا۔ حضرت ابراہیم 260 قبل مسیح میں عراق کے شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 175 سال کی عمر پائی۔ وہ لمبی مدت تک دعوت الی اللہ کا کام کرتے رہے، لیکن لوگوں نے آپ کی بات نہ مانی۔ آخر کار وہ عراق سے نکل کر دوسرے مقامات کی طرف چلے گئے۔ جب وہ عراق سے نکلے تو اُن کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ ایک، اُن کے بھتیجے لوط اور دوسرے، ان کی بیوی سارہ۔

پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں ایسا کیوں ہوا۔ اس کا جواب حضرت ابراہیم کی آخری زمانے کی ایک دعا میں ان الفاظ میں ملتا ہے: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ (إبراہیم: 36) اس آیت کی تشریح اُس حدیث سے معلوم ہوتی ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا سب سے پہلے اپنے قریبی ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔ اُس کا بچپن اور اس کی جوانی جس ماحول میں گزرتی ہے، اس کے مطابق، اس کی کنڈیشننگ (conditioning) ہوتی رہتی ہے۔ اس کے بعد جب اس کے سامنے کوئی پیغمبر آتا ہے اور اٗس کو خدائی سچائی کا پیغام دیتا ہے تو ماحول کی کنڈیشننگ کی بنا پر وہ اٗس کو سمجھ نہیں پاتا۔ یہی کنڈیشننگ اُس زمانے میں دعوت کی راہ میں سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ اُن کے لیے ناممکن ہو گیا تھا کہ وہ اپنی کنڈیشننگ سے باہر آکر ایک نئے پیغام کو خالی الذہن ہو کر سنیں اور آزادانہ طور پر اس کو سمجھ کر اُس کو قبول کر لیں۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، حضرت ابراہیم نے دعوتی عمل کا ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ شہروں اور انسانی آبادیوں سے دُور کھلے صحرا میں ایک نئی نسل تیار کی جائے، جو انسانی تمدن کی کنڈیشننگ سے پاک اور غیر متاثر ذہن کے تحت پیغمبرانہ دعوت کو سنے اور اس کو قبول کر سکے۔ اِسی منصوبہ بندی کے تحت ایسا ہوا کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اُن کی ماں ہاجرہ کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page