اصحابِ رسول کا دَور
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵
موجودہ مکہ کے پاس غیر آباد صحرا میں لا کر بسا دیا، یعنی ایک ایسی جگہ جہاں کوئی تمدن یا کوئی انسانی کلچر لوگوں کی کنڈیشننگ کے لیے موجود نہ تھا۔
اصحابِ رسول کا دَور
عرب کے صحرا میں جو قوم تیار ہوئی، اس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ توالد و تناسل کے ذریعے اس قوم کی تیاری میں تقریباً ڈھائی ہزار سال لگ گئے۔ یہ منفرد قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی تربیت کے اس معاملے کو پروفیسر فلپ ہٹی (وفات : 1978) نے نرسری آف ہیروز (nursery of heroes) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ میں کہوں گا کہ صحرائی تربیت کا یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا، تاکہ کنڈیشننگ سے پاک لوگ (deconditioned people) پیدا کیے جاسکیں۔
کنڈیشننگ سے محفوظ ہونے کی بنا پر بنو اسماعیل اپنے اصل نیچر پر قائم رہے۔ اُن کے اندر انسانی اوصاف بدرجہ اتم محفوظ حالت میں موجود تھے۔ یہی انسانی اوصاف تھے جن کو قدیم عرب کے لوگ المروءۃ (manliness) کہتے تھے۔
ڈھائی ہزار سالہ صحرائی تربیت کے بعد بنو اسماعیل کی جو قوم تیار ہوئی، وہ اُس وقت کی پوری آباد دنیا میں ایک منفرد قوم تھی۔ اُس وقت دنیا کا یہ حال تھا کہ تمام قوموں میں شرک کلچر چھاگیا تھا۔ شہری آبادیوں میں بسنے والے تمام عورت اور مرد شرک کا نہ کنڈیشننگ کا شکار ہو کر رہ گئے تھے۔ شرک کا تصور اُن کے دل و دماغ میں اس طرح سما گیا تھا کہ اُس کے خلاف سوچنا، اُن کے لیے ناممکن ہوگیا تھا۔ اگرچہ سرحدی علاقوں کے اثرات سے بنو اسماعیل میں بھی جُزئی طور پر شرک اور بُت پرستی آگئی تھی، لیکن یہ محض رواج کی سطح پر تھی، بنو اسماعیل کے اندر اس کی گہری جڑیں موجود نہ تھیں۔ اس کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔
امرؤالقیس عرب کا ایک ممتاز شاعر تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش (570 سے تیس سال پہلے 540ء میں اُس نے وفات پائی۔ وہ بظاہر ایک بت پرست قبیلے میں پیدا ہوا، لیکن دوسرے عربوں کی طرح، بت پرستی کے بارے میں گہرا یقین اس کے اندر موجود نہ تھا۔ امرؤالقیس کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues