Al-Risala · July 2008 · page 39

کم پر راضی ہونا

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹

کم پر راضی ہونا

اس دنیا میں کامیابی کا سادہ اصول صرف ایک ہے ــــ کم پر راضی ہو جاؤ، تا کہ تم زیادہ کو پاسکو۔ اس دنیا میں زیادہ چاہنے والے کو کم ملتا ہے، اور جو کم چاہے، وہ زیادہ پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس دنیا کے لیے بہ ایک ایسا عام اصول ہے جس میں غالباً کوئی استثنا نہیں۔ عالم فطرت میں ہر چیز کے نمونے موجود ہیں۔ اسی طرح کامیابی کے مذکورہ اصول کا نمونہ بھی یہاں موجود ہے۔ یہ نمونہ درخت کا نمونہ ہے۔ درخت ایک بیج سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے تنا، اپنی شاخوں اور اپنی پتیوں کے ساتھ ایک بڑا درخت بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ فطرت میں یہ نمونہ اس لیے ہے، تا کہ انسان اُس سے سبق لے اور اس فطری اصول کو اختیار کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی فطری حقیقت کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر ہر انسان اپنے اندر غیر معمولی امکانات (potentials) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ امکانات کسی انسان کے لیے گویا یہ منزلہ بیج ہیں۔ جو انسان اپنے اندر چھپے ہوئے اس امکان کو جانے اور اُس کو دانش مندانہ طور پر بروئے کار لانے کی کوشش کرے، اُس کے لیے کامیابی اتنا ہی یقینی بن جاتی ہے، جتنا کہ ایک اچھے بیج کو زمین میں ڈالنے کے بعد اُس کا ہرے بھرے درخت کی صورت میں تبدیل ہونا۔ ایک بیج قانونِ فطرت کی مدد سے درخت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک انسان اپنے فطری امکانات کے دانش مندانہ استعمال سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرتا ہے۔ درخت کی صورت میں جو کام فطرت کا قانون کرتا ہے، انسان کی صورت میں وہی کام اس کی اپنی عقل انجام دیتی ہے، بشرطیکہ انسان اپنی عقل کو صبر اور حکمت کے ساتھ استعمال کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page