محبت اور نفرت
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱
محبت اور نفرت
ایک مغربی مصنف لینس آرم اسٹرانگ (Lance Armstrong) کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب اسپورٹس اور اس کے شائقین کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا فرانسیسی نام یہ ہے : Tour de France. کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ اسپورٹس کے شائقین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی قوم کے جیتنے والوں سے جذباتی طور پر محبت کرتے ہیں، اور اگر وہ ہار جائیں تو اسی شدت کے ساتھ وہ اُن سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ ــــ عوام یا تو آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ سے نفرت۔ اِس معاملے میں اُن کے یہاں کوئی درمیانی حالت نہیں : Either the public loves you or hates you. There is no such thing as a happy middle ground. عوامی نفسیات کے بارے میں یہ بیان بالکل درست ہے۔ عام لوگ محبت اور نفرت دونوں کے معاملے میں سخت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک تباہ کن عادت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو عقل کے تابع کیا جائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔
حدیث میں آیا ہے کہ دوستی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دوست کبھی تمھارا دشمن بن جائے۔ اور دشمنی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دشمن کبھی تمھارا دوست بن جائے (أحبب حبيبك هوناً ما، عسى أن يكون بغيضك يوماً ما، وأبغض بغيضك ہونا ما، عسى أن يكون حبيبك يوماً ما) الترمذي، كتاب البر والصلة والآداب۔ یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے۔ دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی اعتدال کا رویہ اختیار کرے، نہ کہ انتہا پسندی کا رویہ۔ اعتدال پسندی کا رویہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور انتہا پسندی کا رویہ ہمیشہ مہلک نتیجے کا سبب بنتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues