Al-Risala · July 2008 · page 42

جنون درکار ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

جنون درکار ہے

ایک سفر کے دوران میری ملاقات ایک ہندستانی نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا ماہ نامہ الرسالہ باقاعدہ پڑھتا ہوں۔ اُس سے مجھ کو زندگی کا نیا شعور ملا ہے۔ الرسالہ کے مطالعے سے میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میں انگریزی زبان سیکھوں۔ چناں چہ میں نے انگریزی زبان سیکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آپ مجھے بتائیں کہ میں اس مقصد کے لیے کون سی ڈکشنری استعمال کروں۔ میں نے جواب دیا—ڈکشنری آف جنون۔

یہ بات نہ صرف کسی نئی زبان کو سیکھنے کے لیے ضروری ہے، بلکہ وہ ایک عام فطری اصول ہے۔ کوئی بھی اعلیٰ مقصد مجنونانہ کوشش چاہتا ہے۔ مجنونانہ کوشش کے بغیر کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ مجنونانہ کوشش کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مکمل طور پر مقصد کے حصول میں لگا دے۔ وہ کسی بھی عذر (excuse) کو عذر نہ سمجھے، کوئی بھی چیز اُس کو اپنے طے شدہ راستے سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو۔ اُس کے دماغ میں اگر کوئی خیال ایسا آئے جو اس کے طے شدہ مقصد کے خلاف ہو، تو وہ اس کو لڑ کر اپنے ذہن سے نکال دے۔

کامیابی کا فارمولا صرف دو ہے— صحیح مقصد، اور اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد۔ جو آدمی ان شرطوں کو پورا کرے، وہ لازماً اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔ کامیابی کے سفر کا بنیادی فارمولا یہی ہے۔ دوسری چیزیں جو مطلوب ہیں، وہ اپنے آپ اس میں شامل ہوتی جاتی ہیں۔

جنون کا مطلب ہے اپنے آپ کو اپنے مقصد کے لیے وقف (dedicate) کر دینا۔ جو آدمی اپنے وقت اور اپنی توانائی کو مختلف کاموں میں تقسیم کیے ہوئے ہو، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ بڑا کام لازمی طور پر ڈیڈی کیشن (dedication) چاہتا ہے، یعنی پوری یک سوئی کے ساتھ ایک متعین نشانے کے لیے جدوجہد۔ اس یک سوئی میں دوسرے پہلوؤں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، لیکن اسی برداشت میں بڑی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues

Printed page