جنون درکار ہے
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳
سوال وجواب سوال محترم جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ امید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ اللہ تعالی کا ہزار شکر واحسان ہے کہ ہم سبھی احباب بعافیت ہیں۔ امید کرتا ہوں حضرت والا بھی بعافیت ہوں گے۔ ماہ نامہ الرساله (جنوری، فروری، مارچ 2008) ایک ساتھ دستیاب ہوا۔ الحمدللہ مدرسے کے اساتذہ کرام اور طلبہ کو بھی الرسالہ سے پورا فائدہ حاصل ہورہا ہے اور قرب و جوار میں رہنے والے دینی شوق رکھنے والے دوستوں کو بھی۔ آپ کی تو جہات کا شکریہ کہ آپ نے اس لائق سمجھا اور مدرسے کے نام الرساله جاری فرمادیا۔ اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم سے نوازے، آمین۔ ملکی حالات کافی کشیدہ ہیں۔ دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ ملک میں دستور سازی کا الیکشن ہونے والا ہے۔ مسلمانوں کی شمولیت اچھی ہو اور مسلمانوں کے حق میں بھی ضابطے بنیں، ابھی تک تو مسلمان دستور کے اعتبار سے ملک میں برائے نام ہیں۔ بس دعاء اور رہ نمائی کی درخواست ہے (مولانا محمد حسین خاں ندوی، مدرسہ حرمین، نیپال)۔
جواب
ماہ نامہ الرسالہ میں مسلسل طور پر جو ذہن دیا جاتا ہے، وہ اس سے مختلف ہے۔ ہم کسی ملک کو اس لحاظ سے نہیں دیکھتے کہ مسلمان وہاں اکثریت میں ہیں یا اقلیت میں۔ سیاسی اعتبار سے وہاں کے ماحول میں کشیدگی ہے، یا کشیدگی نہیں ہے، یا یہ کہ دستور اور قانون میں مسلمانوں کو کیا حقوق دیے گیے ہیں، اور کیا حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔ یہ سب باتیں ہمارے نزدیک اضافی (relative) ہیں۔
اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ ہر ملک انسانوں کا ملک ہے۔ ہر ملک میں فطری طور پر مسائل ہوتے ہیں، خواہ وہ نام نہاد مسلم ملک ہو، یا غیر مسلم ملک۔ اسی طرح ہم یہ بھی نہیں مانتے کہ کسی کو اس کے حقوق، دستور اور قانون کی بنیاد پر ملتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ کسی کو اُس کا حق خود اپنی ذاتی استعداد کی بنیاد پر ملتا ہے، نہ کہ کسی کے عطیہ کی بنیاد پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues