The Message of the Prophet Muhammad.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶
کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا سوال یہ تھا کہ اسلام میں ری برتھ (re-birth) یا ری انکارنیشن (reincarnation) کا تصور کیا ہے۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام کے تصور کے مطابق، برتھ اور ری برتھ دونوں ایک ایک بار ہیں۔ موت کے بعد آدمی اگلی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ وہ دوبارہ موجودہ دنیا میں واپس نہیں آتا۔ موت کے بعد کی دنیا میں آدمی کے عمل کے مطابق، اس کے انعام یا اس کی سزا کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سوال و جواب انگریزی زبان میں تھا۔ 5۔ سی پی ایس انٹرنیشنل اور گڈ ورڈ کی طرف سے 5 اپریل 2008 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک پروگرام ہوا۔ اس میں بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا:
The Message of the Prophet Muhammad.
ایک گھنٹے کی تقریر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی پیغام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ مثلاً توحید، عالمی اخوت، امن اور انسانی ہمدردی، وغیرہ۔ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ اس موقع پر تمام آنے والوں کو اسلامی لٹریچر بھی دیا گیا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔
6۔ محترم المقام مولا نا وحید الدین خاں صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید کہ مزاج گرامی ہر طرح بخیر و خوبی ہوں گے۔ ’الرسالہ‘ ہر ماہ نظر نواز ہوتا ہے، خرید کر پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریروں نے مجھے ایک نئی زندگی بخشی ہے۔ مجھ ٹوٹے ہوئے انسان کو بنانے، سنبھالنے اور سنوارنے میں، بلکہ مجھ میں ایک نیا انسان پیدا کرنے میں آپ کے توانا قلم کا غیر معمولی رول رہا ہے۔ ان حقائق کا اظہار میں نے آپ کی خدمت میں پہلے بھی کیا ہے، آج بھی کر رہا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔ جامعہ دارالسلام عمر آباد سے ایک ماہ نامہ گزشتہ 17 سال سے شائع ہو رہا ہے۔ ہر سال کسی خاص موضوع پر اس کے خصوصی شمارے نکلتے ہیں۔ امسال ستمبر (2007) میں اس کا خصوصی شمارہ بعنوان ’’مسلمانوں کے مسائل، امراض اور ان کا علاج‘‘ طے ہے۔ میرا احساس ہے کہ کسی مرض کے ازالے کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں: (1) مرض کی صحیح تشخیص (2) دواؤں کی صحیح تجویز ۔ یہ خوبی آپ کے علاوہ میں نے دوسروں میں نہیں پائی ہے۔ خصوصی شمارے کے لیے تجویز کردہ درج ذیل عناوین بھی آپ کی تحریروں کی دین ہیں: (1) مسلمانوں میں حقیقت پسندی کا فقدان (2) مسلمانوں میں پروفیشنل ازم کا فقدان (3) مسلمانوں میں دور اندیشی اور منصوبہ بندی کا فقدان (4) مسلمانوں میں احساسِ ذمہ داری کا فقدان (5) مسلمانوں میں جذباتیت کا مسئلہ ہماری دلی خواہش اور عاجزانہ گزارش ہے کہ مذکورہ بالا عناوین میں سے کسی ایک دو موضوعات پر آپ کی قیمتی تحریریں خصوصی شمارے کی زینت بنیں ۔ امید کہ مایوس نہیں فرمائیں گے۔ آپ کے ’’جواب باصواب‘‘ کا انتظار رہے گا (مولانا محمد رفیع کلوری عمری، نائب مدیر ماہ نامہ ’’راہِ اعتدال‘‘ جامعہ دارالسلام، عمرآباد، یکم جولائی 2007)۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2008 All issues