ذکرِ کثیر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳
ذکرِ کثیر
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یاد بلا شبہ سب سے بڑی چیز ہے (ولذكر اللہ اکبر ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرے: And remembrance of God is the greatest thing. (29:45)
انسان سے یہ ذکر سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چناں چہ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو (اذکروا اللہ ذكراً كثيرا) الأحزاب: 41 ذکرِ کثیر سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد کوئی عدد، یا شمار یاتی نصاب نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے کہا: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحیان (صحيح البخارى، كتاب الأذان ) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت سے ذکرِ کثیر کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے۔
أحيانه میں ہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ اس کا مطلب ہے أحيانه الله، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے: أيام الله۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، اُس میں آلاء اللہ کا پہلو شامل رہتا ہے۔ آلاء اللہ سے مراد، اللہ کے کرشمے ہیں جو ہر چیز میں شامل ہیں، کوئی بھی چیز اُس سے خالی نہیں۔
ذکرِ کثیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو بھی دیکھے، یا اُس پر جو بھی تجربہ گزرے، وہ اس کو اللہ کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس بنالے :
Make every experience a point of reference for the remembrance of God. ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلائے۔ ہر تجربہ اس کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتا رہا۔ ہر مطالعہ اور مشاہدہ، اس کے لیے خدا سے قربت کے ہم معنی بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues