Al-Risala · August 2008 · page 4

قرآن کا تو سیعی مفہوم

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۴

قرآن کا تو سیعی مفہوم

قرآن ایک آفاقی کتاب ہے۔ قرآن کا پیغام ایک ابدی پیغام ہے۔ قرآن کی آیتوں کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے اور دوسرا، اس کا تو سیعی مفہوم (extended meaning)۔ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔

قرآن کی سورہ نمبر 17 میں نماز فجر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وقرآن الفجر، إنّ قرآن الفجر كان مشهوداً (الإسراء: 78) یعنی نماز فجر میں قرآن کی طویل قرآت کرو۔ کیوں کہ فجر کی قرآت حضوری کی قرآت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کا وقت سکون اور یک سوئی کا وقت ہوتا ہے۔ اس لیے اُس وقت کی قرآت خصوصی کیفیات کی حامل بن جاتی ہے۔ اس آیت کا ایک تو سیعی مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ آدمی صبح کی نماز اول وقت ادا کرے، اور پھر واک (walk) کرنے کے لیے وہ کسی پارک میں جائے، یا ایسے مقام پر جائے جہاں نیچر کی ہریالی ہو۔ ایسے مقام پر صبح کے وقت ایک قسم کا ملکوتی ماحول ہوتا ہے۔ اس ماحول میں آدمی، خدا کی نشانیوں پر غور کرے۔ وہ قرآن کی آیتوں کو پڑھے۔ وہ تخلیق میں خالق کی معرفت حاصل کرے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد کچھ لوگ اجتماعی طور پر ایسے مقامات پر جائیں۔ وہاں فطرت کے ماحول میں وہ ذکر کا حلقہ قائم کریں۔ وہ خدا کی باتوں کا چرچا کریں۔ وہ درسِ قرآن، یا درسِ حدیث کی صورت میں نصیحت حاصل کریں۔ وہ فطرت کے مناظر میں خدا کے کمالات کا ذکر کریں۔ وہ روحانیت کی فضا میں اپنے لیے دینی غذا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ گویا کہ تذکیرِ فجر ہے، جو قرآن فجر کی ایک تو سیعی صورت ہے۔ اس قسَم کا عمل بلاشبہ اضافہ ایمان کا باعث ہے، خواہ وہ انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر۔ یہی قرآن کی ہر آیت کا معاملہ ہے۔ قرآن کی کسی آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو اس کے شانِ نزول، یا سببِ نزول کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ یہ آیت کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن کی ہر آیت کا ایک تو سیعی مفہوم ہے۔ اس تو سیعی مفہوم کے اعتبار سے ہر دور میں قرآن کے نئے معانی لوگوں پر کھلتے چلے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page