Al-Risala · August 2008 · page 6

شکر سے اضافہ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۶

شکر سے اضافہ

قرآن کی سورہ نمبر 14 میں ارشاد ہوا ہے : وإذ تأذن ربکم لئن شکرتم لأزیدنکم، ولئن کفرتم إن عذابی لشدید (إبراہیم: 7) اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے، تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے، تو میرا عذاب بڑا سخت ہے : And reember also the time when your Lord declared: 'If you are grateful, I will surely bestow more favours on you; but if you are ungrateful, then know that My punishment is severe indeed'. (14:7)

قرآن کی اس آیت میں نعمت میں اضافہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان، خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اُس کو آخرت میں جنت کی صورت میں زیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔ شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا دوسرا نام ہے۔ نعمت کے ملنے پر منعم کا اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے۔ اور یہی عبادت وہ چیز ہے جو کسی انسان کو جنت کا مستحق بنائے گی۔ نعمت کیا ہے، نعمت دراصل احساسِ لذت (sense of enjoyment) کا دوسرا نام ہے۔ کوئی چیز پر لذت اسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو، تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو لذت کا احساس رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو عارضی طور پر اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ لذتوں کو محسوس کرکے، خدا کا شکر ادا کرے۔ جو انسان اس دنیا میں حقیقی شکر کا ثبوت دے گا، وہ اگلی دنیا میں ابدی جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ اپنے احساسِ لذت کی کامل تسکین پا سکے۔

موجودہ دنیا انسان کے لیے عارضی شکر کا مقام ہے۔ یہی عارضی شکر وہ قیمت ہے جو کسی انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page