یہ بھی شرک ہے
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۷
یہ بھی شرک ہے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن صَلَّی يُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ، ومَن صَامَ يُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ، ومَن تَصَدَّقَ يُرَائِی فَقَدْ أَشْرَکَ (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126) یعنی جس شخص نے نماز پڑھی دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے صدقہ کیا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔
نماز اور روزہ اور صدقہ، خدا کی عبادتیں ہیں، پھر وہ شرک کیسے بن جاتے ہیں۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن جائے۔ معاشرہ ایک دنیوی تنظیم ہے۔ ایسی تنظیم جب وجود میں آتی ہے، تو وہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اب تمام مادی روابط اس سماجی تنظیم کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ قیادت، مادی فائدے، انسانی تعلقات، تمام دنیوی نوعیت کی چیزیں سماج کے اندر وجود میں آ جاتی ہیں، جس طرح وہ عام قسم کے سیکولر سماج میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، جب کہ مسلمانوں کے درمیان مذکورہ قسم کا ’’شرک‘‘ وجود میں آتا ہے۔ اس کو سماجی شرک بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس سماج سے وابستہ ہر شخص کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے اندر اپنے سماجی اسٹیٹس کو برقرار (maintain) رکھے۔ اس نفسیات کے تحت، یہ ہوتا ہے کہ لوگ دین کی اسپرٹ (spirit) کو الگ الگ کر کے صرف اس کا ظاہری ڈھانچہ (form) لے لیتے ہیں، اور اسی ظاہری ڈھانچہ کی دھوم مچاتے ہیں۔
اس ماحول میں لوگ ظاہری دین داری کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو دین دار ثابت کرنے کے بعد ہی وہ مسلمانوں کے اندر اپنی مطلوب جگہ بنا سکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے اندر موجود تمام سماجی فائدے اپنے گرد اکٹھا کر سکتے ہیں، وہ مسلمانوں کے نمائندے بن کر اُن کے درمیان ہر قسم کے قیادتِی مناصب پر قابض ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی ظاہری عبادت میں رضائے الہی کی اسپرٹ موجود نہیں ہوتی، اس لیے حدیث میں اس کو شرک کا نام دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues