Al-Risala · August 2008 · page 16

درمیانی شخص کا رول

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

درمیانی شخص کا رول

زندگی کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ وسیط یا درمیانی شخص (middleman) کی اہمیت کو سمجھا جائے اور اس کو تعمیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ ایک عالمی اصول ہے۔ ہر زمانے میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیں، قدیم تاریخ میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی۔ 1- قرآن میں اس معاملے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ حضرت یوسف اٹھارھویں صدی قبل مسیح میں فلسطین میں پیدا ہوئے، پھر وہ مخصوص اسباب کے تحت مصر پہنچے۔ اُس وقت مصر میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کا نام یہ تھا ۔ آپوفس (Apophis)۔ حضرت یوسف کو یہ موقع ملا کہ وہ مصر میں وہ پوزیشن حاصل کر لیں جس کو قرآن میں خزائن ارض (یوسف : 55) پر اقتدار کہا گیا ہے۔

حضرت یوسف کو یہ غیر متوقع کامیابی کیسے ملی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعض اسباب کے تحت وہاں ایک شخص سامنے آیا جس نے اُن کے اور بادشاہ کے بیچ، درمیانی شخص (intermediary) کا رول ادا کیا۔ اس طرح حضرت یوسف جیل سے نکل کر اقتدار کے منصب پر پہنچ گئے۔ اس معاملے کی تفصیل قرآن کی سورہ نمبر 12 میں، اور بائبل کی کتاب پیدائش (Genesis) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ 2- حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ وہ پندرہویں صدی قبل مسیح میں مصر میں پیدا ہوئے ۔ اُن کی زندگی میں ایک سے زیادہ ایسے واقعات ملتے ہیں، جب کہ کسی درمیانی شخص نے ان کے لیے بوسٹر (booster) کا رول ادا کیا۔ مثلاً حضرت موسیٰ بچپن میں ایک خاتون کے رول (القصص : 12) کے ذریعے وقت کے بادشاہ کے محل میں پہنچے۔ اسی طرح فرعون نے جب حضرت موسیٰ کے قتل کا فیصلہ کیا تو اچانک اس کے دربار کا ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے درمیانی شخص کا رول ادا کر کے فرعون کو حضرت موسیٰ کے خلاف قتل کی کارروائی کرنے سے باز رکھا (المؤمن : 28)۔ 3- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اس حکمت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ایک

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page