درمیانی شخص کا رول
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
واضح مثال وہ ہے جو غزوۂ خندق کے موقع پر سامنے آئی۔ غزوۂ خندق یا غزوۂ احزاب 5 ہجری میں پیش آیا۔ اُس وقت بے حد سنگین صورت حال تھی۔ مخالفین کی طرف سے بارہ ہزار کا طاقت ور لشکر مدینہ کی سرحد تک پہنچ چکا تھا۔ مسلمان اس لشکر کا مقابلہ کرنے سے اپنے آپ کو عاجز پا رہے تھے۔ اس واقعے کی تصویر قرآن میں اس طرح دی گئی ہے:
’’اُس وقت کو یاد کرو، جب کہ وہ تم پر چڑھ آئے، تمھارے اوپر کی طرف سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے۔ اور جب آنکھیں کھل گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اُس وقت ایمان والے امتحان میں ڈالے گئے اور بالکل ہلا دئے گئے۔ ‘‘ (الأحزاب: 11-10)
تاریخ بتاتی ہے کہ مخالفین اسلام کی طرف سے پیش آنے والا یہ سنگین خطرہ، جنگ اور قتال کے بغیر ختم ہو گیا۔ بارہ ہزار کا یہ طاقت ور لشکر تقریباً ایک مہینے کے محاصرے کے بعد خود ہی مدینہ کے خلاف کوئی اقدام کئے بغیر واپس چلا گیا۔ یہ معجزہ (miracle) کیسے پیش آیا۔ اس کا جواب ہم کو سیرت کی کتابوں سے ملتا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اُس وقت مدینہ میں ایک صاحب تھے جن کا نام نعیم بن مسعود بن عامر الاشجعی (وفات 650ء) تھا۔ وہ اگر چہ دل سے مسلمان ہو چکے تھے، لیکن مخالف اسلام گروہ کو ابھی تک اس کا علم نہ تھا۔ اس بنا پر ان کے قبیلے کے اندر، یا مخالف اسلام گروہ کے اندر ان کو بدستور معتمد علیہ (trustworthy) شخص کی حیثیت حاصل تھی ۔ اس بنا پر وہ اُس وقت دو طرفہ رول ادا کرنے کی پوزیشن میں تھے۔
محاصرے کے دوران نعیم بن مسعود الاشجعی رات کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنے بارے میں بتایا کہ میں دل سے اسلام کو مان چکا ہوں، لیکن ابھی دوسرے لوگ اس سے واقف نہیں۔ اس بنا پر ابھی تک مجھ کو اُن کا اعتماد حاصل ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں مخالفانہ محاصرے کو ختم کرنے کے سلسلے میں اہم رول ادا کر سکتا ہوں۔ پیغمبر اسلام نے اُس وقت ایسا نہیں کیا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues