Al-Risala · August 2008 · page 33

Don’t feel guilty

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۳

سیلف بلیم (self-blame) کی نفسیات پیدا کرتا ہے، ایسا آدمی شکست خوردہ ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے، اس کا کانفیڈینس لیول (confidence level) بہت گر جاتا ہے، ایسے آدمی کے اندر غیر ضروری طور پر منفی مزاج پیدا ہو جاتا ہے، وہ حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ کھو بیٹھتا ہے، ماں باپ کی روک ٹوک اور اخلاقی پابندیوں کی بات کو اس مضمون میں نیگیٹیو پیرنٹنگ (negative parenting) بتایا گیا ہے، کیوں کہ اس سے بچے کے اندر اپنے بارے میں کم تری کا احساس پیدا ہوتا ہے، وغیرہ۔ یہ بلاشبہ صورتِ حال کا غلط تجزیہ ہے۔ آدمی کے اندر جب غلطی کا احساس پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر اپنی اصلاح (self-correction) کا جذبہ ابھارتا ہے، نہ کہ سیلف ڈفیٹ (self-defeat) کا جذبہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اس کا ضمیر کم زور ہونے کے باوجود ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے، وہ ہمیشہ بے یقینی کے احساس میں مبتلا رہے گا۔ اسی کا دوسرا نام بے حوصلگی ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے بعد اس کا اعتراف کرلے، وہ اپنی اصلاح کرکے اپنے اندر مزید یقین پیدا کرلے گا، وہ زیادہ حوصلے کے ساتھ عمل کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین اور اعتماد کا سر چشمہ آدمی کا یہ احساس ہے کہ میں سچائی کے راستے پر ہوں۔ میں اپنے ضمیر کے مطابق چل رہا ہوں۔ میں نے فطرت کے نظام سے بغاوت نہیں کی ہے۔ میں اُن اصولوں کا پابند ہوں جن کے اوپر پوری کائنات قائم ہے۔ بر سر حق ہونے کا احساس آدمی کے حوصلے کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی غلطی کرنے کے باوجود اپنے کو غلط نہ مانے، وہ داخلی بے یقینی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ یہ واقعہ کبھی شعوری طور پر ہوتا ہے اور کبھی غیر شعوری طور پر، مگر جہاں تک نتیجے کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

فکری اعتبار سے اس غلطی کا آغاز بہت پہلے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس دور میں عالمی افکار پر سب سے زیادہ جو لوگ اثر انداز ہوئے ہیں، وہ مغربی علما اور سائنس داں ہیں۔ چناں چہ اس معاملے میں بھی جو صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہوئی، اس کی ذمے داری زیادہ تر مغربی علما پر جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page