Al-Risala · August 2008 · page 32

I don’t regret any decision.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۲

چھپی ہے۔ اس کے ساتھ جو خبر شائع ہوئی ہے، اس کے اوپر جلی حرفوں میں یہ عنوان درج ہے: مجھے اپنے کسی فیصلے پر ندامت نہیں ہوتی:

I don’t regret any decision.

فلم ایکٹریس کا یہ جملہ نمائندہ طور پر یہ بتا رہا ہے کہ آج کے انسان کا اصل اخلاقی مسئلہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جدید افکار و نظریات کے تحت، ایسا ہوا ہے کہ انسان کے اندر ضمیر (conscience) کا عمل تقریباً ختم ہو گیا۔ ضمیر ایک فطری آواز ہے جو انسان کو صحیح اور غلط کا احساس دلاتی ہے، لیکن موجودہ زمانے میں جدید افکار و نظریات کے تحت، انسان کی ایسی کنڈیشننگ ہوئی ہے کہ اس کے اندر ضمیر کا عمل تقریباً ختم ہو گیا۔ اور جب ضمیر کا عمل ختم ہو جائے تو اس کے بعد عملی طور پر یہی ہوگا کہ انسان اور حیوان کے درمیان اخلاقی اعتبار سے کوئی فرق باقی نہ رہے۔

جنگل کے حیوان اپنی جبلت (instinct) پر قائم رہتے ہیں۔ ان کی جبلت میں صحیح اور غلط، یا حق اور باطل کا فرق موجود نہیں، اس لیے وہ اس قسم کے احساسات سے خالی ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن انسان پیدائشی طور پر صحیح اور غلط، یا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ جدید افکار و نظریات کے تحت، اباحیت (permissiveness) کا جو کلچر پیدا ہوا، اس میں اور اس انسانی احساس میں ایک تضاد پایا جاتا تھا۔ اس تضاد کو دور کرنے کے لیے نہایت خوب صورت نظریات گھڑے گئے اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اس کو تمام لوگوں میں پھیلا دیا گیا۔ بطور نمونہ یہاں اس کی ایک مثال درج کی جاتی ہے۔

نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (16 دسمبر 2007) میں مسٹر جیمس (Mames P Krehbiel) کے نام سے اخبار کے صفحہ 27 پر ایک مضمون چھپا ہے۔ اُس کے مندرجات کے مطابق، اس کا عنوان یہ ہے: اپنے آپ کو خطا کار نہ سمجھو:

Don’t feel guilty

اس مضمون میں جدید ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ خطا کا احساس آدمی کے اندر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page