Al-Risala · August 2008 · page 35

Don’t feel guilty

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵

کی ایک غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، اُن ثانوی صفات سے الگ کر دیا، جو شکل، بُو اور رنگ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمّیت کو کیفیت سے جدا کر دیا گیا ہے۔ اس غلطی سے غیر معمولی نتائج پیدا ہوئے۔ انسان کے اندر وہ چیزیں، جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی، اُن چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔ مثلاً فکر اور خیال کا وجود اتنا ہی اہم ہے، جتنا خوں ناب (blood serum) کے طبعی کیمیاوی توازن کا وجود اہم ہے۔ کمّی اور کیفی اشیا کے درمیان یہ فرق اور وسیع ہو گیا، جب ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے دماغ کے مظاہر نا قابلِ تشریح بن گئے۔ مادی اشیا کو روحانی اشیا سے بالکل الگ کر دیا گیا“(73 .Religion and Science, p)

انسانی فکر میں اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق ختم ہو گیا، یا صرف رسمی طور پر باقی رہا۔ انسان دنیا میں اس طرح رہنے لگا، جیسے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ اپنی قسم کا مالک آپ ہے، اُس کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اِسی سے ہیومن ازم (Humanism) کا فلسفہ پیدا ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خدا کی سیٹ پر اب خود انسان کو قبضہ حاصل ہو گیا ۔ چناں چہ ہیومن ازم کے نظریے کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: Transfer of seat from God to man. انسان جب اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے اندر اللہ اکبر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، یعنی ہر قسم کی بڑائی صرف خدا کے لیے ہے۔ میں اُس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز مخلوق کی حیثیت رکھتا ہوں۔ ایسا انسان خدا کو کبیر مان کر، اپنے آپ کو اس کے مقابلے میں صغیر بنا لیتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عجز اور تواضع کا احساس ہی تمام اعلیٰ اخلاقی اقدار کا سر چشمہ ہے۔

اس کے برعکس معاملہ اُس انسان کا ہے جو خدا کو حذف کر کے سوچے ۔ ایسے انسان کے پاس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page