He had no equal
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
تقابل کے لیے صرف دوسرے انسان ہوتے ہیں۔ فطری طور پر اس کے اندر یہ احساس ابھرتا ہے کہ کوئی مجھ سے بڑا نہیں، دوسرے جو لوگ ہیں، وہ یا تو میرے برابر ہیں، یا مجھ سے چھوٹے ہیں۔ ہر آدمی کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صفت ہوتی ہے، اس لیے ہر آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے۔ وہ اِس کی ضرورت نہ سمجھے کہ اُس کو کسی کے آگے جھکنا چاہیے۔ اس قسم کا احساس بلا شبہ تمام اخلاقی اقدار کی نفی کے ہم معنی ہے۔
مثال کے طور پر برطانیہ کا مدبّر لارڈ کِرزن (وفات: 1925) غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ اس کا مطالعہ بھی کافی وسیع تھا۔ چناں چہ جب وہ لوگوں سے ملتا تو اس کو محسوس ہوتا کہ دوسرے لوگ اُس سے کم ہیں۔ اس کے اندر اپنے بارے میں برتری کا احساس پیدا ہو گیا۔ لارڈ کِرزن کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہیں کہ اس کے اندر آپ کے بارے میں کچھ ایسا پیدا ہو گیا ہے جس ہے کہ اُس کے معاصرین میں کوئی اس کے برابر کا نہ تھا:
He had no equal
اس طرح اس کی مدت کی بنا پر لڑکے کی زبان کا روپ بھی غیر متوازن اور بگڑا ہوا اس احساسِ برتری کی بنا پر لارڈ کرزن کا پورا رویہ غیر متوازن بن گیا۔ وہ دوسرے لوگوں کے لیے منفی احساس میں جینے لگا، یہاں تک کہ سخت مایوسی کے عالم میں وہ مرگیا۔ یہی کم وبیش اُن تمام انسانوں کا حال ہوتا ہے جو خدا کو حذف کرکے اپنا فکر بنائیں ۔ جن کی اخلاقیات کا سرچشمہ خدا نہ ہو، وہ اشاریں مان مان رہا ہے: بردار وحدت کے پیاپا ہیں، ان کی یہ اپنے آپ میں جئیں گے اور اپنے آپ ہی مرجائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues