Al-Risala · August 2008 · page 38

بھولنا ایک مثبت عمل

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۳۸

بھولنا ایک مثبت عمل

ں، کسی نہ کسی قسم کی ذہنی الجھن اور پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر بھولنے کا عمل انسان کی مدد کرتا ہے کہ وہ ماضی کی ان تلخ یادوں یا کسی ناخوشگوار تجربے کو اپنے ذہن سے نکال سسے اور اس کی یادیں کمزور پڑ جائیں۔ ذہنی دباؤ اور تناؤ کے اس دور میں انسان اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتا ہے اور بھولنا انسان کے اس دفاعی نظام کا ہی ایک حصہ ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی قسم کے نقصان کے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ نقصان کا یہ تجربہ ایک تلخ یاد بن کر اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ عام طور پر پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ ایک اردو شاعر نے کہا : یادِ ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا نقطہ اِس کے مسئلہ کا (negative solution) منفی حل (ص اور منفی حل ص یہ نقصان کے مسئلے کا ایک منفی حل (negative solution) ہے، اور منفی حل صرف دل کی تسکین کے لیے ہوتا ہے، وہ اصل مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کا ایک حل جارج برناڈ شا (وفات: 1950) نے بتایا ہے۔ اُس نے کہا کہ سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلا دینے کے لیے کچھ نہ ہو:

نقصان، زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ وہ مختلف صورتوں میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا بے ضرر حل یہ ہے کہ اُس کو بھلا دیا جائے۔ فراموشی اِس مسئلے کا سیکولر حل ہے۔ اِس کا مذہبی حل یہ ہے کہ اِس قسم کے تجربات کو خدا کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ مزید یہ کہ اِس دنیا میں ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے۔ نقصان کے تجربے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ آدمی کو نئے نئے تجربات سے آشنا کر کے اس کے ذہنی اُفق (intellectual level) کو وسیع کرتا ہے۔ تلخ تجربہ ایک شاکنگ تجربہ (shocking experience) بن جائے، جب کہ بے حسی کسی ہے۔ یہ ایک مات کن تجربہ (Shocking experience) میں بن جاتی ہے۔

انسان کے لیے نفسیاتی موت (psychological death) کی حیثیت رکھتی ہے۔ H: Data of G drive/good Files/2008/Aug-2008

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page