Al-Risala · August 2008 · page 41

It is too good to be true.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

ایک خط

برادر محترم مولاناسید نورابراہیم! السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ 2 جون 2008 ملا۔ اس کو میں نے دو بار پڑھا۔ میں آپ کو مرتد نہیں سمجھتا۔ زیادہ صحیح لفظوں میں، آپ عقلی (rationalist) ہیں، یعنی معتقد بكفاية العقل دون الوحی۔ آپ کے متعلق، میری رائے یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں عقل کا ایک تصور بنا ہے اور اس کی بنیاد پر آپ نے ایک رائے قائم کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی اورنقطۂ نظر آپ کے سامنے آئے جو عقل کے معیار پر پورا اترتا ہو تو آپ اپنے موجودہ موقف سے رجوع کر لیں گے، جیسا کہ آپ نے اپنے پچھلے روایتی موقف سے رجوع کر لیا۔ میں نے اس موضوع پر بہت پڑھا ہے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ عقل کو مطلق معیار کی حیثیت دیتے ہیں، وہ سب کے سب ثانوی درجے کے مفکرین ہیں۔ اول درجے کے فلاسفہ اور مفکرین میں سے کوئی بھی نہیں جو عقل کو مطلق معیار کی حیثیت دیتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عقلی مفکرین اصلاً مُشکک(sceptic) (sceptic) تھے، نہ کہ منکر یا مرتد۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے جدید فلاسفہ اور مفکرین کی کتابیں نہیں پڑھیں۔ آپ نے صرف رجنیش (Osho) کو پڑھا ہے۔ اور رجنیش (وفات: 1999) کا معاملہ یہ ہے کہ وہ نہ فلسفی تھے اور نہ سائنٹسٹ، وہ صرف ایک خطیب تھے۔ خطابت کا فن ان کو آتا تھا۔ رجنیش سے صرف وہی لوگ متاثر ہوئے ہیں جو خطیبانہ استدلال اور سائنٹفک استدلال کا فرق نہیں جانتے۔ اور غالباً آپ کا کیس اس معاملے میں استثنا (exception) کا نہیں۔ خالص عقلی اعتبار سے اس معاملے میں اصل بات یہ ہے کہ سائنس نے صرف یہ معلوم کیا ہے کہ اکثر واقعات میں کسی سبب کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ مگر کوئی سائنس یا کوئی عقلی سسٹم اب تک یہ معلوم نہ کر سکا کہ کوئی سبب مؤثر کیوں ہوتا ہے۔ مثلاً سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ ہائڈروجن کے دوایٹم اور آکسیجن کے ایک ایٹم کے ملنے سے پانی وجود میں آتا ہے۔ لیکن کوئی بھی سائنس یا کوئی بھی عقلی سسٹم اب تک یہ نہ بتا سکا کہ سبب میں یہ تاثیر کیسے پیدا ہوگئی۔ سائنس نے سبب اور نتیجے کو تو معلوم کیا ہے، لیکن یہ سبب کیوں مؤثر ہوتا ہے، اُس کو سائنس

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page