Al-Risala · August 2008 · page 42

It is too good to be true.

الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

دریافت نہ کر سکی۔ گویا کہ سبب اور نتیجے کے درمیان ایک مسنگ لنک (missing link) ہے جو ابھی تک غیر معلوم ہے فلسفیوں نے اس مسنگ لنک کو دریافت کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ناکام رہے۔ خالص عقلی اعتبار سے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی سبب اور اس کے نتیجے کے درمیان کوئی حقیقی لازمہ نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اشیا کا اسباب کے ذریعہ وجود میں آنا جتنا ممکن ہے، اتنا ہی ممکن یہ بھی ہے کہ اشیا کسی ظاہری سبب کے بغیر وجود میں آ جائیں۔ یہی اس معاملے میں صحیح ترین عقلی موقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص لا ادریہ (agnostic) تو بن سکتا ہے، لیکن عقلی (rationalist) ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے، وہ اس کے سوا کوئی اور موقف اختیار نہیں کر سکتا۔ اگر آپ اس معاملے میں سنجیدہ ہوں تو میں عرض کروں گا کہ آپ مندرجہ ذیل دو کتابیں ضرور پڑھ لیں:

1. Human Knowledge, by Bertrand Russel. 2. Appearance and Reality, by Francis Herbert Bradeley. آپ کے خط کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ظاہری سبب کے بغیر کسی چیز کے وقوع کو نہیں مانتے۔ لیکن اگر آپ رجنیش کے علاوہ، دوسرے بڑے فلاسفہ اور مفکرین کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ خالص عقلی اعتبار سے کسی واقعے کا غیر معجزاتی طور پر وجود میں آنا بھی اتنا ہی عجیب ہے، جتنا کہ ان کا معجزاتی طور پر وجود میں آنا۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح عقلی موقف یہ ہے کہ آدمی اگر ایک نا قابل توجیہہ واقعے کو مانتا ہے، تو اُس کو دوسرے نا قابل توجیہہ واقعے کو بھی ضرور مان لینا چاہیے۔ آپ نے لکھا ہے کہ اوشو کی کتابوں سے آپ کا ذہن بدل گیا۔ میں نے بھی رجنیش کی کتابیں پڑھی ہیں۔ میں نے پایا کہ رجنیش کے یہاں محض جنجال کے سوا اور کچھ نہیں۔ عام لوگ چوں کہ خطیبانہ استدلال اور سائنسی استدلال کے فرق کو نہیں جانتے، اس لیے وہ ان کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ مگر جس آدمی کے اندر علمی تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہو، وہ اُن سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ آپ نے اپنے خط میں رجنیش کے کسی استدلال کا ذکر نہیں کیا ہے، ورنہ میں اس کا تجزیہ کرکے بتاتا کہ ان کا استدلال کتنا بے اصل ہوتا ہے۔ نئی دہلی، 5 جون 2008 دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues

Printed page