Fatwa Against Terrorism
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۴۳
سوال
آج کل مسلمانوں کے درمیان ایک نیا ظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ وہ یہ کہ مسلم رہ نما اور مسلم لیڈر بڑے پیمانے پر امن کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ جگہ جگہ دہشت گردی مخالف کانفرنسیں منعقد کر رہے ہیں، اور میڈیا میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے، دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ اس معاملے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے۔ کیا آپ اس کو کوئی صحت مند ظاہرہ سمجھتے ہیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی)۔
جواب
یہ صحیح ہے کہ آج کل دہشت گردی (terrorism) کے خلاف لکھنے اور بولنے کا فیشن ہو گیا ہے۔ اس موضوع پر مختلف مقامات پر سیمینار اور کانفرنسیں ہو رہی ہیں، انڈیا کے اندر بھی اور انڈیا کے باہر بھی۔ اسی قسم کی ایک بڑی کانفرنس 30 مئی 2008 کو نئی دہلی میں ہوئی۔ میڈیا میں اس کو کافی کور (cover) کیا گیا۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (یکم جون 2008) میں اس کانفرنس کی رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان یہ ہے:
Fatwa Against Terrorism
دہشت گردی کے خلاف اس زمانے میں تقریر و تحریر کی جو دھوم ہے، وہ میرے نزدیک سر تاسر بے فائدہ ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام لوگ ”دہشت گردی کے خلاف بے تکان بولتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ دہشت گردی ہے کیا۔ ان میں سے کسی نے آج تک دہشت گردی کی تعریف (definition) نہیں دی۔ ایسی حالت میں ان کی ساری چیخ و پکار بے معنی ہے۔ اس لیے کہ وہ لوگ جو مختلف مقامات پر تشدد اور خود کش بم باری (suicide bombing) کر رہے ہیں، وہ خود اپنے آپ کو دہشت گرد نہیں کہتے، بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم آزادی وطن کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انسانی حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں، ہم انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں، وغیرہ۔ اس لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ ان کے اوپر منطبق (apply) نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues