Use of arms by agencies, other than state.
الرسالہ، اگست ۲۰۰۸، صفحہ ۴۵
پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ براہِ کرم رہ نمائی فرمائیں کہ اس طرح کے معاملات میں اسلام کا کیا حکم ہے (معاذ الدین، بھاگل پور)۔
جواب
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ ایک عام مزاج ہے کہ وہ مسجد کے امام پر ایک شخصی الزام لگائیں گے اور پھر یہ تحریک چلائیں گے کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ، اس لیے اس کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا امام مقرر کیا جائے۔ اس قسم کی تحریک بلا شبہ ایک گناہ کا کام ہے۔ یہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ حدیث میں اس قسم کے عمل کو صراحت کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ سنن ابی داؤد میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: الصلاة المكتوبة واجبةٌ خَلف كلّ مسلم، برّاً كان أو فاجراً وإن عمل الكبائر (باب إمامة البرّ والفاجر) یعنی فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد، خواہ اس سے گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوا ہو۔ اس حدیثِ رسول کا خطاب اصلاً امام کی طرف نہیں ہے، بلکہ مقتدی کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مقتدی اگر یہ سمجھتا ہو کہ امام کے اندر فلاں فلاں خرابی پائی جاتی ہے، تو اس کے با وجود اس کو امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہیے۔ کیوں کہ ہر آدمی خود اپنی نماز پڑھتا ہے، نہ کہ امام کی نماز۔ مسجد میں امام کا تقرر صرف تنظیمِ جماعت کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ صحتِ نماز کے لیے۔ جہاں تک صحتِ نماز کا معاملہ ہے، اس کا تعلق ہر آدمی کی اپنی نیت سے ہے۔ اس معاملے میں بنیادی اصول یہ ہے کہ مسجد میں ہر وہ فعل قابلِ ترک ہے جو مسجد کے عبادتی ماحول کو بگاڑے۔ کوئی بھی ایسا فعل جس سے مسجد کا عبادتی ماحول بگڑے، وہ شریعت کے نزدیک فتنہ ہے، اور فتنہ کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں۔ بالفرض اگر کسی امام کے اندر کوئی برائی پائی جاتی ہو، تو مقتدی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ اس کے حق میں دعا کرے ۔ اور اگر وہ دعا سے زیادہ کرنا چاہتا ہے، تو وہ صرف یہ کر سکتا ہے کہ تنہائی میں امام سے ملے اور خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ اس کو سمجھانے کی کوشش کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2008 All issues