Al-Risala · September 2008 · page 50

قبولیت کی شرط

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۵۰

قبولیت کی شرط

کسی عمل خیر کی قبولیت کی شرط کیا ہے، اس کو قرآن کی سورہ نمبر 5 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إنّما يتقبل الله من المتقين (المائدة: 27) اللہ تو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے: God accepts only from the righteous (5:27)

متقی کے لفظی معنی ہیں: محتاط اور اندیشہ ناک۔ شرعی اصطلاح میں ایسے انسان کو خدا ترس کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ایسے لوگوں کی تصویر ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: الذین یؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة أنهم إلى ربهم راجعون (المؤمنون: 60) ، یعنی وہ لوگ جو دیتے ہیں، تو جو کچھ وہ دیتے ہیں، اس طرح دیتے ہیں کہ اُن کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

جو شخص اس معنی میں متقی ہو، تو اس کا حال یہ ہوگا کہ جب وہ کوئی عمل خیر کرے گا، تو وہ اْس کو احساسِ عمل کے تحت نہیں کرے گا، بلکہ احساسِ بے عملی کے تحت کرے گا۔ وہ اپنے عمل کو اتنا بے قیمت سمجھے گا کہ خدا اگر اس کو قبول کرلے، تو یہ خدا کا احسان ہے۔ اس کی سوچ یہ ہوگی کہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی آخری پیشی خدا کے یہاں ہونے والی ہے۔ یہ خدا ہے جو اگر اس کے عمل کو با قیمت قرار دے تو اس کا عمل باقیمت ہے، ورنہ اس کے عمل کی کوئی حیثیت نہیں۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف، وہ عمل خیر کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف، اس کی آنکھ سے عجز کے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی احساس عجز ہے جو کسی عمل کو مقبول عمل بناتا ہے۔ جس عمل میں عجز کی روح شامل نہ ہو، وہ عمل کبھی مقبول عمل نہیں بنتا۔ خدا کے یہاں کمیت (quality) کی اہمیت نہیں، بلکہ خدا کے یہاں کیفیت (quality) کی اہمیت ہے۔ خدا، بندے کے کسی عمل کو اس کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں دیکھے گا، بلکہ اس اعتبار سے دیکھے گا کہ کرنے والے نے کس جذبے کے ساتھ وہ عمل کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page