کفاف، تکاثر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳
کفاف، تکاثر
رزق (livelihood) کا حصول ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ اس رزق کے لیے آدمی مختلف ذرائع سے مال کماتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس رزق کے دو معیار بتائے گئے ہیں۔ ایک ہے: کفاف (necessities)، اور دوسرا ہے: تکاثر (abundance)۔
قرآن کی سورہ نمبر 102 میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تکاثر کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں، یعنی زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مال ذریعہ عیش نہیں، بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری ہے، ایک ایسی ذمہ داری جس کے بارے میں خدا کی عدالت میں اُن سے پوچھا جائے گا۔ جس آدمی کے اندر یہ احساس ہو، وہ مال کو اپنی زندگی میں ثانوی (secondary) درجہ دے گا، نہ کہ اولین (primary) درجہ۔ کیوں کہ وہ اس حقیقت کو جانے گا کہ زیادہ مال کا مطلب ہے— زیادہ جواب دہی (more accountability)۔
دوسرا طریقہ کفاف کا طریقہ ہے۔ اس کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قد أفلح من أسلم، ورزق كفافاً وقنعه الله بما اتاه (صحیح مسلم، کتاب الزكاة؛ ابن ماجة، كتاب الزهد؛ مسند احمد، جلد 2، صفحہ 168) یعنی وہ آدمی کامیاب رہا جس نے خدا کی اطاعت کی، اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا، اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا، اُس پر اس نے قناعت کیا۔ تکاثر کی نفسیات میں مبتلا ہونا دراصل مال کو اپنا سب کچھ سمجھنا ہے۔ ایسا آدمی رسمی طور پر خدا کا نام لے گا، لیکن حقیقت کے اعتبار سے مال ہی کو اس کی زندگی میں معبود کا درجہ حاصل ہوگا۔ ایسا آدمی دنیا میں بظاہر مال دار دکھائی دے گا، لیکن آخرت میں وہ پوری طرح بے مال ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، جس شخص نے رزق کے معاملے میں کفاف کا طریقہ اختیار کیا، یعنی اُس نے بقدر ضرورت پرقناعت کی، وہ کامیاب انسان ہے۔ کیوں کہ ایسے آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی توانائی کو ضائع ہونے سے بچائے، وہ آخرت کی ابدی کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ عمل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues