Al-Risala · September 2008 · page 5

معرفتِ حدیث ،معرفتِ قرآن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۵

معرفتِ حدیث ،معرفتِ قرآن

قرآن اور حدیث کو سمجھنے کے لیے بلاشبہ وہ علوم ضروری ہیں جو مدرسوں میں پڑھائے جاتے ہیں، مگر ان رواجی علوم کے علاوہ، ایک اور چیز ہے جو مدرسوں کے نصاب میں شامل نہیں، اور وہ ہے معرفتِ قرآن میں اس کو معرفتِ حق (المائدة: 83) کہا گیا ہے۔ یہ عارفانہ بصیرت اگر آدمی کے اندر نہ ہو، تو وہ مدارس کی سند حاصل کرنے کے باوجود، قرآن اور حدیث کو حقیقی طور پر نہیں سمجھ سکتا۔ اس کی ایک مثال مستشرقین (orientalists) ہیں۔ موجودہ زمانے میں ایسے مستشرقین پیدا ہوئے جو نصابی علوم کے ماہر تھے، جو عربی زبان اور فنّی علوم میں کامل دست گاہ رکھتے تھے۔ انھوں نے قرآن اور حدیث کا گہرا مطالعہ کیا، مگر وہ قرآن اور حدیث کو حقیقی طور پر سمجھنے میں نا کام رہے۔ حدیث رسول کے باب میں علماء، معرفتِ حدیث کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، مگر معرفتِ حدیث کے لفظ سے اُن کی مراد زیادہ تر اسناد، یا متن (text) کی معرفت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتِ حدیث کی معرفت۔ اسناد اور متن کی معرفت بلا شبہ اہم ہے، لیکن اسناد اور متن کی معرفت صرف ایک فنّی نوعیت کی معرفت ہے، نہ کہ حقیقی نوعیت کی معرفت۔

معرفت سے مراد وہی چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں، بصیرت (insight) کہا جاتا ہے، یعنی الفاظ کے حقیقی مصداق تک پہنچ جانا، سطور سے گزر کر بین السطور کو پڑھ لینا، کلام کے حقیقی مدعا کو سمجھ لینا ۔ حدیث کے الفاظ میں، عبارت کے ظہر (outer portion) اور بطن (inner portion) دونوں سے واقف ہونا۔ اسی کا نام معرفت ہے۔ اس معرفت کے بغیر کوئی شخص حقیقی طور پر نہ قرآن کو سمجھ سکتا ہے اور نہ حدیث کو۔ یہ معرفت ، یا بصیرت دو چیزوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے— کثرت مطالعہ اور کثرت دعا۔ کثرت مطالعہ سے کوئی آدمی ایک تیار ذہن (prepared mind) بنتا ہے۔ اور دعا کے ذریعے آدمی کی رسائی اُن پہلوؤں تک ہو جاتی ہے جو انسانی کتابوں میں مذکور نہیں۔ معرفت کے حصول کے لیے دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page