اخلاص اور بصیرت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۶
اخلاص اور بصیرت
دین میں اخلاص کی بھی اہمیت ہے، اور بصیرت کی بھی اہمیت۔ قرآن میں اخلاص کا معیار ابتغاء رضوان اللہ (الحدید: (27) بتایا گیا ہے، یعنی صرف اللہ کی رضا چاہنے کے لیے کام کرنا، کسی اور غرض کا اُس میں شامل نہ ہونا۔ بصیرت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی حالات زمانہ سے واقف ہو، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أن يكون بصيراً بزمانه، یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ز مانی بصیرت پیدا کرے۔ اخلاص اور بصیرت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تاہم اُن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ اگر معاملہ صرف آدمی کی اپنی ذات سے ہو، تو اقدام کے لیے صرف اخلاص کافی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر معاملے کا تعلق اجتماعی احوال سے ہو، تو اخلاص کے ساتھ بصیرت بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ ایک آدمی اگر کامل اخلاص کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کسی شخص سے کرے اور وہ نکاح نا کام ہو جائے، تو اس کا نقصان آدمی کو خود اٹھانا پڑتا ہے۔ اس قسم کی غلطی سے کوئی عمومی فساد واقع نہیں ہوتا۔ ایسا آدمی قابل معافی قرار پائے گا، اس کو قابل سزا ر نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ایک رہ نما کے لیے یہ معیار کافی نہیں۔ کوئی رہ نما جب ایک تحریک چلاتا ہے، یا ایک عملی اقدام کرتا ہے تو اس کا تعلق ہزاروں انسانوں سے ہوتا ہے۔ اگر اس کی تحریک درست نہ ہو، یا اس کا اقدام ایک غلط اقدام ہو، تو ایسی صورت میں اس کی غلط تحریک، یا اس کے غلط اقدام کا نقصان پوری نسل کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جو شخص اجتماعی قیادت کے میدان میں داخل ہو، اس کے لیے صرف اخلاص کافی نہیں، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ بصیرت زمانہ کا بھی حامل ہو۔ اگر وہ بصیرت زمانہ کا حامل نہیں ہے، تو اس کے لیے زیادہ بہتر ہے کہ وہ کوئی اقدام نہ کرے۔ اس کی بے عملی کا کم سے کم یہ فائدہ ہوگا کہ لوگ اس کی غلط تحریک کے نقصان سے بچ جائیں گے۔ اگر آپ دوسروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے، تو کم از کم ان کو اپنے نقصان سے بچائیے۔ دوسروں کو اپنے نقصان سے بچانا بھی کرنے کا ایک کام ہے۔ اسی عظیم حکمت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : إن لم تنفعه، فلا تضره ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues