Al-Risala · September 2008 · page 8

موت کا سبق

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۸

موت کا سبق

میں ایک جنازہ میں شریک ہوا۔ موت کے بعد مرنے والے شخص کو نہلایا گیا۔ اس کو نئے کپڑے کا کفن پہنایا گیا۔ لوگوں نے کھڑے ہوکر اس کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر وہ میت کو اپنے کاندھوں پر لے کر چلے، یہاں تک کہ قبر میں احترام کے ساتھ لٹا کر اس کو ڈھک دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ ایک مردہ جسم کے ساتھ اتنے زیادہ اہتمام کا حکم اسلام نے کیوں دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم مٹی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، مگر اس کو عام مٹی کی طرح ادھر اُدھر پھینک نہیں دیا جاتا، بلکہ اس کے ساتھ باقاعدہ انسان کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ ’’مٹی‘‘ کے ساتھ ’’اننسان‘‘ جیسا معاملہ کرنے کا حکم مرنے والے کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ زندہ رہنے والے کے اعتبار سے ہے۔ مردہ انسان کے ذریعہ زندہ انسانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ بالآخران کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں۔ وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقرر دن میں کاغذ کا ایک انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کر کے اس کومٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے۔ اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔

ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے۔ بولتے بولتے اس کی زبان بند ہوگئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی، وہ سب اچانک ختم ہوگئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعمال کرتا ہے، تاکہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ وہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلائے۔ لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹایا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوۓ وہ کہتا ہے: منھا خلقنا کم (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا)، جب وہ دوسری بارمٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے: وفیھا نعید کم (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں) اور پھر تیسری بارمٹی ڈالتے ہوۓ وہ کہتا ہے : ومنھا نخرجکم تارة أخرىٰ (اوراسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے)۔ یہ تین بار مٹی ڈالنا، اس پورے معاملہ کا میکس ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page