دعوتی کام، غیر دعوتی انداز
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۷
دعوتی کام، غیر دعوتی انداز
آج کل دعوت کا لفظ ایک فیشن بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو مختلف کاموں میں مشغول ہیں اور وہ ان کو دعوت کا نام دیے ہوئے ہیں، کچھ لوگ ملی ورک کر رہے ہیں اور کچھ لوگ سوشل ورک، کچھ لوگ ڈیبیٹ (مناظرہ) میں مشغول ہیں، اور کچھ لوگ کانفرنس اور سیمینار میں، کچھ لوگ کسی اور کام میں۔ یہ تمام لوگ اپنے کام کو دعوت کا کام سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا کام ایک خصوصی خدائی کام ہے۔ اُس کا اصول اور اس کا طریقہ دونوں، خدا نے اپنی کتاب (قرآن) میں تفصیل کے ساتھ بتا دیا ہے۔ دعوت کو قرآن میں دعوت الی اللہ (حم السجدة : 55) کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی طرف بلانا۔ اللہ کی طرف بلانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کے تخلیقی پلان سے آگاہ کیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اس دنیا میں کسی انسان کے لیے صحیح زندگی یہ ہے کہ اس کی زندگی خدا رخی زندگی (God-oriented life) ہو، وہ خود رخی زندگی (self-oriented life) یا کوئی اور رخی زندگی نہ ہو۔
اس دعوتی کام کا طریقہ بھی متعین کر دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ دوسرے تمام کاموں سے الگ ہو کر اس کام کو کیا جائے۔ یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے، اس لیے یہاں ہمیشہ لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ ایسی حالت میں صحیح دعوتی طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کی ایذاؤں پر یک طرفہ صبر (ابراہیم: 12) کرتے ہوئے دعوتی کام کو جاری رکھا جائے۔ دعوتی کام صرف ایک جذبے کے تحت ظہور میں آتا ہے، اور وہ ہے لوگوں کے لیے غیر مشروط خیر خواہی۔ ایک مومن جب زندگی کی حقیقت کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر بے پناہ طور پر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت سے آگاہ کرے۔ وہ دوسروں کے لیے بھی یہ کوشش کرے کہ وہ جہنم سے بچ جائیں اور ان کو ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ اسی جذبے کے تحت ظاہر ہونے والے عمل کا نام دعوتی عمل ہے۔ ملی ورک، یا سوشل ورک، دعوہ ورک نہیں۔ دعوہ ورک وہ ہے جو خدا کی نسبت سے کیا جائے، نہ کہ انسان کی نسبت سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues