Al-Risala · September 2008 · page 16

شکر ایک اعلیٰ عبادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

وہ انگریزی زبان میں بول رہا ہے۔ میں اس کی بات کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ میری مادری زبان اردو ہے، اور دوسرے شخص کی زبان انگریزی۔ میں کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتا ہوں، جب کہ میں اس کو اردو الفاظ میں ڈھال لوں۔ میں نے سوچا کہ دماغ کیسی عجیب نعمت ہے۔ جو اپنے اندر یہ انوکھی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ انگریزی الفاظ کو فی الفور (instantly) اردو میں ڈھال دے۔ اور اس طرح متکلم کی بات کو بلا تاخیر میرے لیے قابلِ فہم بنا دے۔

اس طرح کی بہت سی باتیں اُس وقت میرے ذہن میں آتی رہیں۔ میں ایک طرف، دور کے ایک شخص سے ٹیلی فون پر بات کر رہا تھا اور دوسری طرف، عین اُسی وقت میں خدا کے بارے میں تھر لگ شکر کا تجربہ کر رہا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ شدید تھا، جیسے کہ شکر کا ایک دریا میرے سینے میں جاری ہو گیا ہو۔ اسی طرح ہر لمحہ انسان کو ایسے تجربات پیش آتے ہیں جن کے اندر شکر کا سمندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اس اعلیٰ شکر تک آپ کی رسائی صرف غور و فکر کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی اعلیٰ شکر کا دروازہ ہے۔ جس آدمی کے اندر سوچ نہ ہو، اس کے اندر شکر بھی نہ ہوگا۔ ایسا آدمی ہر چیز کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیتا رہے گا۔ وہ شکر کے سمندر کے درمیان رہتے ہوئے بھی تھر لگ شکر کا تجربہ نہیں کرے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ — اُن کے پاس آنکھ ہے، مگر وہ دیکھتے نہیں، ان کے پاس کان ہے، مگر وہ سنتے نہیں، ان کے پاس دماغ ہے، مگر وہ سوچتے نہیں۔ بظاہر وہ انسان نظر آتے ہیں، مگر وہ حیوان ہیں، بلکہ حیوان سے بھی زیادہ بدتر (الأعراف: 197)۔

اصل یہ ہے کہ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک، اس کا ابتدائی اور ظاہری پہلو۔ اور دوسرا، اس کا زیادہ گہرا پہلو۔ چیزوں کا ظاہری پہلو ہر آدمی کو کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اس کا جو گہرا پہلو ہے، وہ صرف سوچنے کے بعد کسی کو سمجھ میں آتا ہے۔ اعلیٰ شکر کا تجربہ کرنے کے لیے آدمی کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ چیزوں کے گہرے پہلو پر غور کرے، تاکہ وہ ایک معمولی چیز کو غیر معمولی روپ میں دیکھ سکے:

It is the result of taking an ordinary thing, as an extraordinary thing.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues

Printed page