شکر ایک اعلیٰ عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
ایک دن مجھے پیاس لگی۔ میرے سامنے میز پر شیشے کا ایک گلاس پانی سے بھرا ہوا رکھا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو اس کو دیکھ کر میرے دماغ میں ایک فکری طوفان برپا ہو گیا۔ اچانک ایک پوری تاریخ میرے ذہن میں آگئی۔ میری زبان سے نکلا کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے پانی جیسی نعمت انسان کو عطا کی۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ یہ ایک سپر شکر تھا، جس نے میری پوری شخصیت میں طوفان برپا کر دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ کئی ملین سال پہلے ایسا ہوا کہ دو گیسوں ، آکسیجن اور ہائڈروجن، کے ملنے سے پانی جیسی سیال چیز بنی۔ یہ پانی گہرے سمندروں میں ذخیرہ ہو گیا۔ اس کے بعد خدا نے تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر اس میں دس فی صد نمک ملا دیا۔ یہ پانی براہ راست طور پر انسان کے لیے نا قابل استعمال تھا۔ اس کے بعد خدا نے ایک عالمی نظام کے تحت ، پانی کو نمک سے الگ کرنے کے لیے، ازالہ نمک (desalination) کا ایک آفاقی عمل جاری کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ سمندروں کا کھاری پانی، میٹھا پانی بن کر بارش کی صورت میں ہم کو حاصل ہو گیا۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تھر لنگ شکر کی توفیق کسی آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا واحد ذریعہ سوچ ہے۔ یہ دراصل سوچ ہے جو آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ سپر شکر کا ہدیہ اپنے رب کے حضور پیش کرے ۔ سوچ کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں ہے جو آدمی کو اس اعلیٰ شکر کا تجربہ کرائے جو کہ خدا کو انسان سے مطلوب ہے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: رب اجعلنی لک شکاراً۔ کوئی انسان ، شُکار یاہت زیادہ شکر کرنے والا کیسے بنتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی شکر کے کلمہ کو ہزاروں بار دہرائے، یا اور کوئی وظیفہ پڑھے۔ اس کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ غور و فکری ہے۔ مذکورہ دعا کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، تو مجھ کور بانی غور وفکر کی توفیق دے، تا کہ میرے اندر اعلیٰ شکر کی کیفیات پیدا ہوں، جو کہ حقیقی معنوں میں کسی انسان کو خدا کا شکر گزار بندہ بناتی ہیں۔ آپ قرآن کا مطالعہ کریں، تو آپ پائیں گے کہ قرآن میں شکر کو صبر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں دنیا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اِنّ فی ذلک لآیات لکُلِّ صَبّار شکور (لقمان : 31)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2008 All issues